Al-Risala · September 2019 · page 18

جہاد فی اللہ

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۹، صفحہ ۱۸

سلیمان بن داؤد کو ان کی دعا کے مطابق انوکھے قسم کا سیاسی اقتدار عطا کیا گیا، جو ان کے سوا کسی اور انسان کو کبھی نہیں ملا۔ لیکن خدا کے خزانے میں عطیے کی یہی ایک انوکھی صورت نہیں ہے جو حضرت سلیمان کو عطا ہوئی۔ اس کے سوا دوسری ہزاروں صورتیں ہیں، جو تاریخ میں دوسرے انسانوں کو عطا ہوئیں۔ اسی طرح عطیات کے دوسرے بہت سے میدان ہیں جو دوسرے انسانوں کو عطا ہوئے۔ عطیات کا یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوا۔ آج بھی کسی انسان کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ ایک منفرد عطیہ الہی کا طالب بنے، اور اللہ اس کے استحقاق کو دیکھ کر یہ منفر دعطیہ اس کو دے دے۔ عطیہ الہی کی ایک مثال حکمتِ خداوندی ہے۔ اس کائنات میں حکمتِ خداوندی (divine wisdom) کے بے شمار آئٹم ہیں۔ اگر کوئی انسان سچے دل سے اس کا طالب بنے کہ اس کو حکمت خداوندی کا ایک ایسا آئٹم دے دیا جائے، جو کسی اور کو نہ ملا ہو تو یقیناً اللہ اس پر قادر ہے۔ اس نے جس طرح حکم کی ایک صورت سلیمان بن داؤد کو دی، جو نہ ان سے پہلے کسی کو ملی، نہ ان کے بعد۔ اسی طرح اللہ اس پر قادر ہے کہ وہ کسی طالب کو حکمت خداوندی کا ایک ایسا آئٹم دے دے، جو نہ اس سے پہلے کسی کو ملا ہو، نہ اس کے بعد کسی کو ملے ۔ اور اس عطیہ کے باوجود اللہ کے خزانے حکمت میں کوئی کمی واقع نہ ہو۔ اسلامی جہاد کا سب سے بڑا میدان تدبر ہے یعنی فکری جہاد (intellectual jihad)۔ فکری جہاد سے بڑا کوئی جہاد نہیں۔ اسی حقیقت کو ابن عباس اور ابو الدرداء نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے: تَفَكُّرُ سَاعَةٍ خَيْرٌ مِنْ قِيَامِ لَيْلَةٍ (العظمة لابي الشيخ الاصبهانی، اثر نمبر 42 ؛ حلیۃ الاولیاء، جلد 1، صفحہ 208)۔ یعنی ایک ساعت کے لیے تفکر کرنا رات میں قیام (اللیل) سے بہتر ہے۔ فکری جہاد سب سے بڑا جہاد اس لیے ہے کہ وہ معرفت اور دعوت سے جڑا ہوا ہے۔ فکری جہاد کی ایک مثال صحابی رسول ابو ذر کی ہے۔ ان کے متعلق روایت میں آیا ہے کہ وہ رات دن سوچتے رہتے تھے (حلیۃ الاولیاء، جلد 1، صفحہ 164)۔ یہ فکری جہاد بلا شبہ سب سے بڑا جہاد ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ فکری جہاد کا رشتہ معرفت اور دعوت الی اللہ سے جڑا ہوا ہے۔ فکری جہاد کے ذریعے جب کسی شخص کا ذہنی ارتقا (intellectual development) ہوتا ہے تو وہ اس قابل ہو جاتا ہے

‹ Previous page Next page › Contents of September 2019 All issues

Printed page