جہاد فی اللہ
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۹، صفحہ ۱۹
کہ وہ آیات اللہ (signs of God) اور آلاء اللہ (Marvels of Nature) کو زیادہ سے زیادہ دریافت کریں اور اس طرح خالق کے بارے میں اپنی معرفت کو بے پناہ حد تک بڑھاتا چلا جائے ۔ اسی طرح جو شخص فکری جہاد کرے، وہ اپنے داعیانہ صلاحیت میں بہت اضافہ کرے گا۔ اس کا فکری مستوى (intellectual level) بہت بڑھ جائے گا۔ وہ اس قابل ہو جائے گا کہ دعوت الی اللہ کا کام اعلیٰ ترین سطح پر انجام دے سکے۔
فکری جہاد کا فائدہ دنیا سے آخرت تک چلا گیا ہے۔ اس کی ایک مثال قرآن کی پہلی آیت ہے: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ۔ یہ پہلی آیت مومن کے اس درجہ معرفت کو بتاتی ہے، جو ایک مومن فکری جہاد کے ذریعے دنیا کی زندگی میں حاصل کرتا ہے۔ اسی طرح قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اہل جنت جب جنت میں داخل ہو جائیں گے تو جنت میں ان کے آخر قول کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَاخرُ دَعْوَاهُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (10:10) ۔ یعنی اور ان کی آخری بات یہ ہوگی کہ ساری تعریف اللہ کے لیے ہے جو رب ہے سارے جہان کا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ مومن موجودہ دنیا میں فکری جہاد اس لیے کرتا ہے کہ وہ اعلیٰ ترین سطح پر ذہنی ارتقا کا درجہ حاصل کرے ۔ قرآن میں جنت کو دارالمتقین (النحل، 16:30) کہا گیا ہے۔ انسانی زبان میں اس کو اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ جنت ایسے انسانوں کا مقام ہے، جو مجلس خداوندی میں کلام کرنے کے قابل ہوسکیں۔ دنیا میں فکری جہاد کا اصل مقصد یہی ہے کہ جب آخرت کی دنیا میں پہنچے تو وہاں وہ خداوندی سطح پر کلام کرنے کے قابل ہو چکا ہو۔
اسلام میں جہاد کا مطلب قتال (جنگ) نہیں ہے، بلکہ پر امن جدوجہد ہے۔ اس جدوجہد کا نشانہ کسی دوسرے کی گردن کاٹنا نہیں ہوتا بلکہ خود اپنے آپ کو اللہ کے راستے میں مشقت کے مراحل سے گزارتے ہوئے ثابت قدم رہنا۔ مشقت کے یہ مراحل آدمی کے اندر ایک نفسیاتی ہیجان پیدا کرتے ہیں۔ آدمی درد و کرب کے لمحات سے گزرتے ہوئے اللہ کو پکارتا ہے۔
یہ پکار (دعا) سادہ طور پر کچھ الفاظ کو زبان سے دہرالینا نہیں ہے، بلکہ فکر کے مراحل ہیں، یعنی
‹ Previous page Next page › Contents of September 2019 All issues