Al-Risala · September 2019 · page 20

جہاد فی اللہ

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۹، صفحہ ۲۰

جب آدمی اس قسم کے لمحات سے گزرتا ہے تو اس کی سوچ میں گہرائی پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کی تخلیقیت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس کے اندر گہری فکر (deep thinking) آجاتی ہے۔ وہ وزڈم کی اس اعلیٰ سطح پر آجاتا ہے جہاں اللہ سے اس کا گہرا تعلق قائم ہو جاتا ہے۔ وہ اللہ کا ہو جاتا ہے، اور اللہ اس کا۔ جنت کی سرگرمیاں جنت کے بارے میں قرآن میں مختلف بیانات آئے ہیں۔ ایک بیان یہ ہے: اِنَّ الَّذِیْنَ اَمَنُوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنَّاتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا۔ خَالِدِينَ فِيهَا لَا يَبْغُونَ عَنْهَا حِوَلًا۔ قُلْ لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَاداً لِكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ كَلِمَاتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا (18:107-109)۔ یعنی بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیا، ان کے لیے فردوس کے باغوں کی مہمانی ہے۔ اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ وہ وہاں سے کبھی نکلنا نہ چاہیں گے۔ کہو کہ اگر سمندر میرے رب کی نشانیوں کو لکھنے کے لیے روشنائی ہو جائے تو سمندر ختم ہو جائے گا اس سے پہلے کہ میرے رب کی باتیں ختم ہوں، اگرچہ ہم اس کے ساتھ اسی کے مانند اور سمندر ملا دیں۔ یہاں قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جنت کی زندگی اتنی خوشگوار ہوگی کہ وہ کبھی اس سے نکلنا نہ چاہیں گے۔ اس کے بعد اگلی آیت یہ ہے کہ اللہ کے کلمات اتنے زیادہ ہیں کہ کتنا ہی زیادہ ان کو لکھا جائے، وہ کبھی ختم نہ ہوں گے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت میں اہل جنت کا ایک مشغلہ یہ ہوگا کہ وہ کلمات اللہ کا مطالعہ کریں، وہ کلمات اللہ کو دریافت کریں، اور پھر کلمات اللہ کو قلم بند کریں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جنت میں اہل جنت کی مشغولیت اسی قسم کی ہوگی، جو موجودہ دنیا میں سائنسدانوں کی ہوتی ہے۔ مشہور برطانی سائنسدان نیوٹن (1727-1643) سے اس کے علم کے بارے میں پوچھا گیا۔ اس نے کہا کہ جو ہم جانتے ہیں، وہ ایک قطرہ ہے، اور جو کچھ ہم نہیں جانتے ہیں، وہ ایک سمندر ہے: What we know is a drop, what we don't know is an ocean. یہی تجربہ اہل جنت کے ساتھ جنت میں بہت زیادہ اضافہ کے ساتھ ہوگا۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2019 All issues

Printed page