Al-Risala · September 2019 · page 24

اہل جنت

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۹، صفحہ ۲۴

اہل جنت

جنت رب العالمین کا پڑوس ہے (التحریم، 11: جنت ان لوگوں کے لیے ہے، جو دنیا میں خداوند رب العالمین کی یاد میں جینے والے ہوں، وہی لوگ ابدی جنت میں بسائے جائیں گے ۔ جہاں ان کو خداوند رب العالمین کی قربت حاصل ہوگی۔ جو لوگ منفی سوچ (negative thinking) میں جینے والے ہوں، وہ دنیا میں بھی خداوند رب العالمین کی قربت سے محروم رہیں گے، اور آخرت میں بھی۔

موجودہ دنیا تربیت گاہ ہے، اور آخرت کی دنیا تربیت یافتہ لوگوں کا مقام۔ جنت میں صرف منتخب افراد رہائش کا درجہ پائیں گے۔ وہ لوگ جو دنیا کی زندگی میں اپنے آپ کو اس قابل ثابت کریں کہ وہ منظم زندگی گزارنا جانتے ہیں۔ جن کے اندر قابل پیشین گوئی کردار موجود ہے۔ جنت میں ان لوگوں کو داخلہ ملے گا، جو اپنے عمل سے یہ ثابت کریں کہ ان کے اندر تخلیقی (creative) صلاحیت موجود ہے۔ جو یہ ثابت کریں کہ وہ آزادی کے باوجود ذمہ دارانہ زندگی (disciplined life) گزارنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جنت ان لوگوں کے لیے ہے، جو پورے معنی میں باشعور ہوں۔ جو پورے معنی میں بے مسئلہ انسان ہوں۔ جو اپنے اندر سیلف کنٹرول (self-control) کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ وہ منظم اخلاقیات سے متصف ہوں، وغیرہ۔

اسی طرح جنت کے بارے میں قرآن میں آیا ہے : حَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا (4:69)۔ یعنی کیسی اچھی ہے ان کی رفاقت۔ اس سے معلوم ہوا کہ جنت حسن رفاقت (excellent companionship) کی دنیا ہے۔ دنیا میں اسی کا امتحان ہورہا ہے۔ یہاں یہ دیکھا جارہا ہے کہ وہ کون شخص ہے، جو اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ اجتماعی زندگی میں اس کے اندر سیلف ڈسپلن کی صفت اعلیٰ درجے میں پائی جاتی ہے، جو کسی کے دباؤ کے بغیر دوسروں کے لیے بہترین ہمسایہ بن کر رہنے والا ہے۔ جس آدمی کے اندر حسن رفاقت کی صفت ہو، جو کسی دباؤ کے بغیر سیلف ڈسپلن کے

‹ Previous page Next page › Contents of September 2019 All issues

Printed page