Al-Risala · September 2019 · page 25

اہل جنت

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۹، صفحہ ۲۵

ساتھ ہر حال میں رہ سکتا ہے ، ایسے ہی لوگ ہیں، جو جنت میں داخلے کے لیے منتخب کیے جائیں گے۔ اسی طرح قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اہل جنت کے لیے جنت کا رزق ایک معلوم رزق ہوگا۔ یعنی جنت ان کے لیے ایک ایسی چیز ہوگی، جس کی دریافت ان کو دنیا میں ہو چکی تھی ۔ اس سلسلے میں قرآن کے الفاظ یہ ہیں : وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ (47: 6)۔ یعنی اور ان کو جنت میں داخل کرے گا جس کی اس نے انھیں پہچان کرا دی ہے۔ گویا کہ موجودہ دنیا ایک ایسی دنیا ہے جو جنت کے متشابہ دنیا (similar world) کی حیثیت رکھتی ہے، جیسا کہ قرآن میں ایک دوسرے مقام پر یہ الفاظ آئے ہیں: كُلَّمَا رُزِقُوا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِزْقاً قَالُوا هَذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ وَأُتُوا بِهِ مُتَشَابِها (2:25)۔ یعنی جب بھی ان کو ان باغوں میں سے کوئی پھل کھانے کو ملے گا تو وہ کہیں گے یہ وہی ہے جو اس سے پہلے ہم کو دیا گیا تھا، اور ملے گا ان کو ایک دوسرے سے ملتا جلتا۔ دوسری طرف حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: حُجِبَتِ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6487)۔ یعنی جنت کو مکارہ سے ڈھانک دیا گیا ہے۔ مکارہ کا مطلب ناپسندیدہ (undesirable) ہے۔ اس پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت ایک ایسی چیز ہے، جس کا تعارفی ماڈل اسی دنیا میں موجود ہے، لیکن وہ مکارہ سے ڈھکا ہوا ہے۔ مومن کا کام یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو ذہنی اعتبار سے اتنا زیادہ ارتقا یافتہ بنائے کہ وہ مکارہ کے پردے کو ہٹا کر پیشگی طور پر جنت کو دریافت کر سکے۔

یہ صلاحیت کسی فرد کے اندر کیسے پیدا ہوتی ہے۔ وہ اس طرح پیدا ہوتی ہے کہ آدمی کے اندر موت وحیات کے منصوبے پر گہرا یقین ہو، وہ گہرے یقین کے ساتھ یہ جانے کہ موجودہ دنیا میں ہر لمحہ فرشتوں کے ذریعے اس کا ریکارڈ تیار ہو رہا ہے۔ جو مرد یا عورت جنتی اخلاقیات کے معیار پر پورے اتریں، صرف وہ جنت میں داخلہ پائیں گے، اور جو لوگ اس معیار پر پورے نہ اتریں، وہ کائنات کے کوڑے خانے میں پھینک دیے جائیں گے۔ جہاں وہ ابدی طور پر اس حسرت میں تڑپتے رہیں کہ ان کو ایک ہی موقع ملا تھا، اس موقع کو انھوں نے اپنی نادانی سے کھو دیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2019 All issues

Printed page