Al-Risala · January 2019 · page 44

ایک سوال

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۹، صفحہ ۴۴

سوال: دورِ جدید میں پھیلنے والے لامذہبیت اور سیکولرزم کا سبب کیا ہے، آپ کی نظر میں اس کا علاج کیا ہوسکتا ہے؟

جواب: یہ بات جو کہی جاتی ہے، وہ دراصل اسلام کے اعتبار سے نہیں ہے۔ بلکہ اسلام کے روایتی وزن کے اعتبار سے ہے۔ اسلام کے روایتی وزن کے اعتبار سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ اسلام ایک مکمل نظامِ حیات ہے۔ اسلام کا تعلق زندگی کے سارے پہلو سے ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہی سوچ سب سے بڑا سبب ہے کہ مسلمانوں کا ذہن طبقہ کیوں سیکولرزم کی طرف مائل ہو رہا ہے۔ مگر یہ سوچ بذات خود غلط ہے۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں اسلام کا تعلق اصلاً انسان کے مذہبی امور سے ہے، جیسا کہ خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح کر دیا تھا: إِذَا كَانَ شَيْئًا مِنْ أَمْرِ دُنْيَاكُمْ فَشَأْنُكُمْ بِهِ، وَإِذَا كَانَ شَيْئًا مِنْ أَمْرِ دِينِكُمْ فَإِلَيَّ (مسند احمد، حدیث نمبر 24920)۔ یعنی کوئی چیز اگر دنیا کے معاملہ سے متعلق ہو تو تم اس کو زیادہ جانتے ہو اور اگر وہ بات دین کے متعلق ہو تو اس کی ذمے داری میرے اوپر ہے۔

مذہبی دائرے کے سوا اسلام انسان کو پوری آزادی دیتا ہے۔ مثلاً روایتی اسلام میں رسول اللہ کے بارے میں کوئی کریٹیکل کمنٹ دینا شتم رسول کا حکم رکھتا ہے، اور شتم رسول ایک ایسا جرم ہے، جس کی سزا قتل ہے۔ جب کہ قرآن وسنت دونوں میں اس پر سزا کا براہ راست ثبوت نہیں ملتا۔ تفصیل کے لیے میری کتاب ، شتم رسول کا مسئلہ ملاحظہ ہو۔

شتم رسول پر سزا آج کے انسان کے لیے قابل قبول نہیں۔ موجودہ زمانے کی فکر، اظہارِ خیال کی آزادی (freedom of expression) پر قائم ہے۔ اس بنا پر لوگ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ اسلام کے ساتھ دنیا میں ترقی نہیں ہو سکتی۔ کیوں کہ اسلام ان مسائل کی بنیاد پر دوسری قوموں سے اتحاد میں رکاوٹ ہے، اور اتحاد کے بغیر ترقی کا کوئی پلان نہیں بنایا جا سکتا۔ جدید ذہن کے لیے اسلام کا یہ نظریہ مستقل طور پر قیام امن میں رکاوٹ ہے، اور قیام امن کے بغیر کوئی ترقی کا کام عملاً ممکن ہی نہیں۔ اس معاملے کا حل صرف اسلام کے پرامن پیغام کو عام کرنا اور شتم کرنے والے کے ساتھ اس معاملے میں افہام و تفہیم کا طریقہ اختیار کرنا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2019 All issues

Printed page