ایک سوال
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۹، صفحہ ۴۵
سوال: آپ مسلم مفکرین اور لکھنے والوں کو کیا نصیحت کرنا چاہیں گے، بطور خاص اس لیے کہ آپ کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ آپ نے جب بھی کسی فکر پر تنقید کرنے کا ارادہ کیا، تو اس کے بارے میں ہزاروں صفحات پڑھا ہے؟
جواب: مسلم مفکرین اور لکھنے والے یہ سمجھتے ہیں کہ جدید فکر (modern thought) ان کے خلاف ایک چیلنج ہے۔ مگر بہ غور جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ جس چیز کو جدید فکر کہا جاتا ہے وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اسلام مخالف نہیں ہے، وہ عین موافق اسلام ہے۔ مسلم مفکرین کی یہ غلطی ہے کہ انھوں نے جدید فکر یا جدید تہذیب کو اسلام کا مخالف سمجھ لیا۔ اس بنا پر ان کے اور جدید ذہن کے درمیان غیر ضروری ٹکراؤ پیدا ہو گیا ہے۔ مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جدید ذہن اور جدید تہذیب پوری کی پوری اسلام کے موافق ہے۔ حقیقت کے اعتبار سے دیکھیے تو اسلام اور جدید فکر میں کوئی ٹکراؤ نہیں ہے۔
اصل مسئلہ فکر جدید کو بدلنے کا نہیں ہے، بلکہ مسلمانوں کی سوچ کو بدلنے کا ہے۔ اس کے بعد کوئی مسئلہ باقی نہیں رہے گا۔ مسلمانوں کا مزاج یہ تھا کہ ہر نئی چیز کے خلاف ہو جانا۔ تو جب کلونیلزم کا دور آیا تو وہ ہر چیز کے خلاف ہو گئے۔ اسی چیز نے اصل مسئلہ پیدا کیا۔ تو اسی ذہنیت کو بدلنا ہے۔ میری ان کو نصیحت ہے کہ وہ جدید فکر کے خلاف اپنی منفی مہم کو بند کر دیں۔ سوال: آنے والے دنوں میں آپ اسلام کا مستقبل کیسا دیکھتے ہیں؟
جواب: اسلام کا مستقبل بہت ہی اچھا ہے، بشرطیکہ مسلمان اپنے کو بدلیں۔ موجودہ زمانے کی کوئی چیز اسلام کے خلاف نہیں ہے۔ لیکن مسلمان ہر چیز کو اسلام کے خلاف سمجھنے لگتے ہیں، اور ہر چیز کے خلاف لڑنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ مثلاً جب پرنٹنگ پریس آیا تو ابتدا ء میں ترکی کے شیخ الاسلام نے اس کے حرام ہونے کا فتویٰ دیا۔ یہ دور جدید سے علماء کی بے خبری کا مسئلہ تھا، نہ کہ غیرمسلموں کی اسلام سے مخالفت کا۔ اس لیے ضرورت یہ ہے کہ مسلمان اپنی سوچ کو بدلیں ۔ سوال: آپ کے بچپن یا جوانی کا کوئی واقعہ، جس کو آپ ابھی تک یاد کرتے ہوں، اور اس کا
‹ Previous page Next page › Contents of January 2019 All issues