Al-Risala · September 2019 · page 38

فتنہ عام

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۹، صفحہ ۳۸

ملتی۔ جنت میں داخلہ کی شرط یہ ہے کہ انسان یہ ثابت کرے کہ وہ اپنی خصوصیات کے اعتبار سے اس کا مستحق ہے۔

موجودہ دنیا کو خدا نے اسی مقصد کے لیے selection ground کے طور پر بنایا ہے۔ موجودہ دنیا کے حالات اس طرح بنائے گئے ہیں کہ یہاں کا ہر جز انسان کے لیے ایک ٹسٹ پیپر کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں انسان ہر لمحہ trial پر ہے۔ خدا ہر انسان کے قول وعمل کا record تیار کر رہا ہے۔ اسی record کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ وہ کون عورت اور مرد ہیں، جو جنت میں بسانے کے لیے اہل باشندہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔

انسان کو اس دنیا میں مکمل آزادی ملی ہوئی ہے۔ یہ آزادی انعام کے طور پر نہیں بلکہ test کے طور پر ہے۔ خدا یہ دیکھ رہا ہے کہ انسان اپنی آزادی کو کس طرح استعمال کرتا ہے۔ جو عورت اور مرد اپنی آزادی کو خدا کے نقشہ کے مطابق درست طور پر استعمال کریں، ان کو جنت میں بسانے کے لیے چُنا جائے گا اور جو لوگ آزادی کو misuse کریں وہ Day of Judgement میں قابلِ رد (rejected lot) قرار پائیں گے۔

انسان کی زندگی دو دوروں میں تقسیم ہے۔ قبل از موت دور (pre-death period) اور بعد از موت دور (post-death period)۔ قبل از موت دور امتحانی دور (trial period) ہے، اور بعد از موت دور انعام پانے کا دور (reward period)۔ یہی وہ سب سے بڑی حقیقت ہے، جس کو جاننے اور اختیار کرنے میں انسان کی کامیابی اور ناکامی کا راز چھپا ہوا ہے۔ ***** جنت کے حصول کا مدار جس چیز پر ہے، وہ ہے اپنی خواہشوں پر کنٹرول کرنا اور اپنی عقل کو ترقی دینا۔ انسان کے اندر بہت سی خواہشیں ہیں۔ اسی خواہش کے راستے سے شیطان نے آدم کے اوپر حملہ کیا، اور وہ کامیاب ہو گیا۔ ہر خواہش انسان کے اندر شیطان کے داخلے کا دروازہ ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنی خواہش کے ہر دروازے پر چوکی دار بنارہے، تاکہ شیطان اس کے اندر داخل ہو کر اُس کو خدا کی رحمت سے دور نہ کرسکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2019 All issues

Printed page