یہ تضاد کیوں
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۹، صفحہ ۳۹
یہ تضاد کیوں
شیلے (Percy Bysshe Shelley) ایک انگلش شاعر ہیں۔ وہ 1792ء میں پیدا ہوا، اور 1822ء میں اس کی وفات ہوئی۔ اس نے ایک بار کہا تھا کہ ہمارے سب سے زیادہ شیریں نغمے وہ ہیں جو سب سے زیادہ غم ناک نغمے ہیں:
Our sweetest songs are those that tell of saddest thought. یہ ایک عام تجربے کی بات ہے۔ ہر عورت اور مرد کا یہ حال ہے کہ اس کو درد ناک کہانیاں یا غم انگیز اشعار زیادہ پسند آتے ہیں۔ اکثر مقبول ناول وہ ہیں جو طربیہ نہیں بلکہ المیہ ہیں۔ اسی طرح اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ گیت کار زیادہ مقبول ہوتے ہیں جو پر سوز لہجے میں گانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ ایسا کیوں ہے۔ کیا وجہ ہے کہ پر سوز اشعار یا پر سوز کہانیاں انسان کے دل کے تاروں کو چھیڑنے میں زیادہ کامیاب ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ہر انسان عملاً محرومی یا عدم یافت کی نفسیات میں جیتا ہے۔ ایسی حالت میں خوشی کی بات اس کو غیر واقعی معلوم ہوتی ہے۔ اس کے مقابلے میں غم کی بات اس کو زیادہ مبنی بر واقعہ نظر آتی ہے۔
زیادہ گہرائی کے ساتھ مطالعہ کیجیے تو معلوم ہوگا کہ انسان ایک لذت پسند حیوان ہے: Man is a pleasure-seeking animal. نا قابل پیمائش حد تک وسیع کائنات کے اندر انسان ایک استثنائی مخلوق ہے۔ اس عالم میں انسان ایک واحد مخلوق ہے، جو احساس لذت کی صفت رکھتا ہے۔ یہ انسان کی انوکھی صفت ہے کہ وہ مختلف قسم کی لذتوں کا احساس رکھتا ہے اور اس سے لطف اندوز ہو سکتا ہے۔ وسیع کائنات میں بے شمار مخلوقات ہیں مگر لذت سے لطف اندوز ہونے کی صفت استثنائی طور پر صرف انسان کے اندر پائی جاتی ہے۔
انسان کے لیے سوچنا بھی لذت ہے، دیکھنا بھی لذت ہے، سننا بھی لذت ہے، بولنا بھی
‹ Previous page Next page › Contents of September 2019 All issues