اہل جنت کے درجات
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۹، صفحہ ۴۴
مکانی اعتبار سے جنت کے تمام افراد یکساں طور پر اقامت میں شریک ہوں گے، مگر جو شخص شعوری اعتبار سے ارتقا کے جس درجے پر ہوگا اُسی نسبت سے وہ جنت کی نعمتوں سے متمتع ہو سکے گا۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے ایک حدیث کا مطالعہ کیجیے۔ محدث البیہقی نے ایک روایت ان الفاظ میں نقل کی ہے : اَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ رَوَاحَةَ قَالَ لِصَاحِبِ لَهُ: تَعَالَ حَتَّى نُؤْمِنَ سَاعَةً . قَالَ: أَوَ لَسْنَا بِمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: بَلَى، وَلَكِنَّا نَذْكُرُ اللهَ فَنَزْدَادُ إِيمَانًا (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر 49) ۔ یعنی عبداللہ ابن رواحہ صحابی نے اپنے ایک ساتھی سے کہا کہ آؤ، ہم ایک ساعت کے لیے ایمان لائیں۔ ساتھی نے کہا کہ کیا ہم مومن نہیں ہیں ؟ ابن رواحہ نے کہا کہ ہاں، مگر جب ہم اللہ کو یاد کرتے ہیں تو ہم اپنے ایمان میں اضافہ کرتے ہیں۔
اس روایت سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایک انسان وہ ہے جو کلمۂ توحید کا اقرار کرنے کے بعد یہ سمجھے کہ وہ صاحبِ ایمان ہوگیا، جو ایمان اُس کو ملنا تھا وہ اُسے مل گیا۔ ایمان یا عقیدہ کے اعتبار سے اب اُسے کچھ اور پانا نہیں ہے۔ اس کے مقابلے میں دوسرا انسان وہ ہے جو بار بار اللہ کو یاد کرے، وہ اللہ پر غور و فکر کرے۔ اور اس طرح وہ اپنی معرفت ایمانی کو بڑھاتا رہے۔ اُس کا ایمان مسلسل شعوری ترقی کرتا رہے۔
اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ اصحابِ ایمان میں معرفت کے اعتبار سے درجات ہوتے ہیں۔ کوئی اعلیٰ معرفت کے درجے پر ہوتا ہے اور کوئی اُس سے کم معرفت کے درجے پر۔ معرفتِ حق کا یہ فرق جنت میں استمتاع کے اعتبار سے فرق پیدا کر دے گا۔
ایک مومن وہ ہے جس نے قرآن میں اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ پڑھا، تو اُس نے کسی شک اور تردد کے بغیر اس حقیقت کو مان لیا۔ اْس نے یقین (conviction) کے درجے میں اُس کو قبول کر لیا۔ قرآن کا دوسرا قاری وہ ہے کہ جب اْس نے اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ پڑھا تو اس آیت میں تخلیق الہی کے ایسے گہرے معانی اْس کے ذہن میں تازہ ہوگئے کہ اُس کے اندر اہتزاز (thrill) کی کیفیت پیدا ہوگئی ۔ وہ حمدِ خداوندی کے جذبے سے سرشار ہوگیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2019 All issues