Al-Risala · September 2019 · page 45

اہل جنت کے درجات

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۹، صفحہ ۴۵

اسی طرح ایک مومن وہ ہے جس کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جائے تو وہ اُس کو ایک سچائی مان کر اُس کو قبول کرلے۔ مثلاً چھینک آنے پر ایک شخص اگر کہے: اَلْحَمْدُ للّٰہِ، تو اُس کو سن کر اُس کی زبان پر یہ کلمہ آجائے کہ یر حمک اللہ۔ اس کے مقابلے میں دوسرا مومن وہ ہے جس کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جائے تو اپنی بڑھی ہوئی معرفت کی بنا پر اُس کا یہ حال ہو کہ اللہ کی عظمت کے احساس سے اُس کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں۔ اللہ کی کبریائی کو سوچ کر اُس کا دل دہل اُٹھے، جیسا کہ قرآن میں ہے: اِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَاِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ اٰیٰتُهُ زَادَتْهُمْ اِيْمَانًا وَّعَلٰى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ (8:2)۔ یعنی ایمان والے تو وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل دہل جائیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کے سامنے پڑھی جائیں تو وہ ان کا ایمان بڑھادیتی ہیں اور وہ اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔

اسی طرح ایک مومن وہ ہے جس نے قرآن میں یہ آیت پڑھی: وَالَّذِيْ هُوَ يُطْعِمُنِيْ وَيَسْقِيْنِ (26:79)۔ یعنی اور جو مجھ کو کھلاتا ہے اور پلاتا ہے۔ اُس نے اس آیت کو اُس کے ظاہری مفہوم کے اعتبار سے لیا اور اُس کی زبان پر شکر کے الفاظ آگئے۔ دوسرا مومن وہ ہے جو اس آیت کو پڑھے تو اُس کے ذہن میں حقائق کا ایک دفتر کھل جائے۔ وہ سوچے کہ زمین و آسمان کے اندر بے شمار سرگرمیاں ظہور میں آئیں ۔ اُس کے بعد یہ ممکن ہوا کہ وہ چیز بن کر تیار ہو جس کو ہم کھانا اور پانی کہتے ہیں اور جو زندگی کی بقا کے لیے لازمی طور پر ضروری ہے۔ یہ سوچ کر اُس کے سینے میں کمالات خداوندی کے اعتراف کا ایک سمندر موجزن ہو جائے۔ حتیٰ کہ یہ احساس اُس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی شکل میں بہہ پڑے۔

یہ دونوں ہی مومن حمد خداوندی کے احساس کے حامل ہیں۔ مگر معرفت کے فرق کے اعتبار سے دونوں کے درمیان اتنا زیادہ فرق پیدا ہو گیا ہے کہ اُس کو لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ قرآن وحدیث سے ثابت ہے کہ جو لوگ سچے دل کے ساتھ ایمان لائیں، جن کی نیتیں درست ہوں۔ جو بقدر استطاعت اللہ کے احکام کی پابندی کریں، وہ جنت میں جائیں گے۔ مگر یہ

‹ Previous page Next page › Contents of September 2019 All issues

Printed page