I wish I could see this sunset forever.
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۹، صفحہ ۴۸
بند رکھے تو گویا اس نے اپنے اوپر جنت کے دروازے کو بند کر لیا۔ اس دنیا میں حق کو قبول کرنا یا حق کا انکار کرنا ہی وہ خاص لمحہ ہے جب کہ آدمی کے لیے ابدی جنت یا ابدی جہنم کا فیصلہ ہوتا ہے۔ غالباً 1970 میں مجھے تاج محل دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ تاج محل کو دیکھنے سے پہلے تاج محل کے بارے میں بہت سے مضامین پڑھے تھے۔ ان مضامین میں تاج محل مجھے بہت عظیم محسوس ہوتا تھا۔ مگر جب میں نے تاج محل کو دیکھا تو وہ اس سے بہت کم تھا جو میں اپنے ذہن میں سمجھ رکھا تھا۔ یہی حال تمام انسانی مصنوعات کا ہے۔ انسانی ساخت کی کسی چیز کے بارے میں اسے دیکھنے سے پہلے جو میری رائے تھی وہ اس کو دیکھنے کے بعد باقی نہ رہی۔ ہر انسانی چیز دیکھتے ہی اس سے کم نظر آئی جو دیکھنے سے پہلے محسوس ہوتی تھی۔ مگر فطرت کے مناظر کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ کوئی فطری واقعہ اس سے بہت زیادہ عظیم ہے جو دیکھنے سے پہلے سن کر یا پڑھ کر میں سمجھ رہا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فطرت کا ہر واقعہ انتہا حد تک عظیم اور حسین ہے، انسانی الفاظ اس کو پوری طرح بیان نہیں کر پاتے۔ یہاں ہر بولا ہوا لفظ اصل حقیقت سے بہت کم ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فطرت دیکھنے میں اس سے زیادہ نظر آتی ہے جتنا کہ وہ پڑھنے یا سننے میں محسوس ہو رہی تھی۔ 19 ستمبر 1985 موجودہ زمانے کے ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ انسان کے دماغ (brain) میں جو پارٹیکل ہیں وہ پوری کائنات کے مجموعی پارٹیکل سے بھی زیادہ ہیں۔ انسانی دماغ کی استعداد بے پناہ ہے مگر کوئی بڑے سے بڑا انسان بھی اب تک اپنے دماغ کو دس فی صد سے زیادہ استعمال نہ کر سکا۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی ایک امکان ہے۔ مگر موجودہ دنیا اپنی محدودیتوں کے ساتھ اس امکان کے ظہور کے لیے ناکافی ہے۔ انسانی امکان کے ظہور میں آنے کے لیے ایک لامحدود اور وسیع تر دنیا درکار ہے۔ جنت کی دنیا، ایک اعتبار سے، اسی لیے بنائی گئی ہے کہ وہاں آدمی کے امکانات پوری طرح ظہور میں آسکیں۔ جنت کے بارے میں قرآن میں ”عندك“ (تمھارے پاس) اور ”عند ربهم“ (ان کے
‹ Previous page Next page › Contents of September 2019 All issues