I wish I could see this sunset forever.
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۹، صفحہ ۴۹
رب کے پاس) کے الفاظ آئے ہیں۔ اس سے میں یہ سمجھا ہوں کہ جنت مجلس خداوندی میں جگہ پانے کا دوسرا نام ہے۔ خدا کی صفت خاص یہ ہے کہ وہ پرفیکٹ (perfect) ہے۔ خدا کے قریب جو دنیا ہوگی وہاں ہر چیز پرفیکٹ ہوگی۔ وہاں پرفیکٹ باتیں ہوں گی۔ پرفیکٹ سلوک ہوگا۔ پرفیکٹ سامان ہوں گے۔ یہ ایک پرفیکٹ ماحول ہوگا، اور پرفیکٹ ماحول میں جینے ہی کا نام جنت ہے۔ یہ پرفیکٹ دنیا اتنی زیادہ قیمتی ہے کہ انسان کا کوئی بھی عمل، خواہ وہ کتنی ہی مقدار میں ہو، اس کی قیمت نہیں بن سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی شخص کو اپنے عمل کی قیمت پر جنت میں جگہ نہیں مل سکتی۔ تاہم ایک چیز ہے جو جنت کی قیمت ہے۔ اور وہ ہے پرفیکٹ تھنکنگ۔ آدمی عمل کی سطح پر پرفیکٹ نہیں بن سکتا۔ مگر سوچ (تھنکنگ) کی سطح پر وہ پرفیکٹ بن سکتا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو موجودہ دنیا میں آدمی کو حاصل کرنا ہے، اور یہی وہ چیز ہے جو کسی آدمی کو جنت میں داخلے کا مستحق بنائے گی۔ 19 اکتوبر 1985 جنت صبر کے اُس پار ہے، مگر اکثر لوگ جنت کو صبر کے اس پار تلاش کرنے لگتے ہیں۔ 6 نومبر 1985 قرآن میں اہل جنت کے بارہ میں آیا ہے کہ وہ با اقتدار بادشاہ کے پاس سچی نشستوں پر بیٹھے ہوئے ہوں گے (فی مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيكٍ مُقْتَدِرٍ ) 54:55۔
موجودہ دنیا میں آدمی جھوٹی نشستوں پر بیٹھا ہوا ہے۔ آخرت میں آدمی سچی نشستوں پر بٹھایا جائے گا۔ ہر آدمی فریب اور استحصال کے ذریعہ اونچی جگہ پائے ہوئے ہے۔ یہاں ہم کو ایسے لوگوں کے درمیان زندگی گزارنا پڑتا ہے، جو اپنے آپ کو اس کا پابند نہیں سمجھتے کہ وہ اپنے اختیار کو صرف عدل کے دائرے میں استعمال کریں۔
آخرت کا معاملہ اس سے مختلف ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کو ہر قسم کا کامل اختیار حاصل ہے۔ مگر اس نے اپنے آپ کو اس کا پابند بنا رکھا ہے کہ وہ عدل اور رحمت کے دائرہ ہی میں اپنے اعلیٰ اختیارات کو استعمال کرے ( کَتَبَ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ [6:12]) اسی کے ساتھ وہ ایک ایسی ہستی ہے، جو
‹ Previous page Next page › Contents of September 2019 All issues