Al-Risala · September 2019 · page 50

I wish I could see this sunset forever.

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۹، صفحہ ۵۰

اعلیٰ ترین معیاری ذوق رکھتا ہے ۔ وہ پرفیکٹ سے کم پر کبھی راضی نہیں ہوتا۔ ایسے شہنشاہ کے پڑوس میں جگہ پانا کس قدر پر مسرت اور لذیذ ہوگا اس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ قرآن میں اہل جنت کی صفات میں سے ایک صفت یہ بیان ہوئی ہے کہ وہ اس دن کی مصیبت سے ڈرتے ہیں جو ہر طرف پھیل پڑے گی ۔ وہ اللہ کی محبت میں محتاج کو اور یتیم کو اور قیدی کو کھلاتے ہیں ۔ (اور یہ کہتے ہیں کہ ہم جو تم کو کھلاتے ہیں تو صرف اللہ کی خوشی چاہنے کے لیے کھلاتے ہیں ۔ ہم تم سے نہ بدلا چاہتے ہیں، اور نہ شکر گزاری ۔ ہم اپنے رب سے ایک ایسے دن کے بارے میں ڈرتے ہیں جو بڑی اداسی والا اور سختی والا ہوگا (10-7: 76) ۔ ان آیات کو پڑھ کر ایک صاحب نے کہا کہ ایسے موقع پر یہ الفاظ عربی میں کہنا چاہیے یا اس کو اپنی زبان میں بھی کہا جا سکتا ہے۔ میں نے کہا کہ آپ اس آیت کا مطلب نہیں سمجھے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جب کسی حاجت مند کی مدد کی جائے تو اس وقت زبان سے یہ الفاظ دہرائے جاتے رہیں ۔ اس سے مراد الفاظ نہیں بلکہ احساسات ہیں۔ یعنی جب کسی کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے تو آدمی کے دل میں یہ احساس طاری ہونا چاہیے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ان الفاظ کو یاد کر لے اور ہر ایسے موقع پر ان الفاظ کو دہرادیا کرے۔ کبھی زبان سے کچھ الفاظ بھی نکل پڑتے ہیں مگر اصلًا یہاں جس چیز کا ذکر ہے وہ احساسات ہی ہیں۔ 19 دسمبر 1985 قرآن میں آیا ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے اوپر رحمت کو لکھ رکھا ہے (كَتَبَ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ [6:12] ) ۔ موجودہ دنیا میں انسان کے پاس اقتدار ہے۔ مگر اس نے اپنے آپ کو رحمت اور عدل کا پابند نہیں کیا ہے، اس لیے موجودہ دنیا فساد اور خرابیوں سے بھر گئی ہے۔ مگر آخرت میں سارا اقتدار صرف ایک اللہ کے پاس ہوگا، اور اللہ نے ہر قسم کا مطلق اختیار رکھنے کے باوجود اپنے آپ کو رحمت اور عدل کا پابند کر رکھا ہے۔ اس لیے آخرت کی دنیا سراپا خیر ہوگی۔ وہاں صرف وہی ہوگا جو از روئے حق ہونا چاہیے، اور وہ نہ ہو سکے گا جو از روئے حق نہیں ہونا چاہیے آخرت کی یہ خصوصیت آخرت کو ایک معیاری دنیا بنا دے گی ۔ اسی معیاری دنیا کا دوسرا نام جنت ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2019 All issues

Printed page