عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۹، صفحہ ۱۰
کہا کہ آپ کو میں ایک دعا بتاتا ہوں۔ آپ اس کو پابندی کے ساتھ روزانہ پڑھیں۔ پھر میں نے یہ قرآنی دعا ایک کاغذ پر لکھی اور اس کو انہیں دیا۔ میں نے کہا کہ آپ اس دعا کو روزانہ پڑھیں۔ وہ دعا یہ تھی: رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ (28:24) ۔ یعنی خدایا، جو خیر تو نے میری طرف اُتارا، میں اس کا محتاج ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں اس دعا کو روزانہ پڑھوں گا۔ (عرب امارات کا سفر) میڈیا رپورٹنگ عرب امارات کے سفر میں ایک مسئلے کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ جب بھی کوئی اصلاح کا کام کیا جائے، خاص طور پر جب کہ وہ گہری بنیادوں پر کیا جا رہا ہو تو میڈیا میں اس کا چرچا یقینی ہے۔ میڈیا کے مزاج کے مطابق، یہ چرچا تقریباً ہمیشہ منفی انداز سے ہوتا ہے۔ اصلاح و دعوت کے میدان میں کام کرنے والے مردوں اور عورتوں کو چاہیے کہ وہ میڈیا کی اس منفی رپورٹنگ کی پروا نہ کریں۔ منفی رپورٹنگ کے اندیشہ کی بنا پر وہ ایسا نہ کریں کہ میڈیا سے اعراض کرنے لگیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر مائنس پوائنٹ کا ایک پلس پوائنٹ ہوتا ہے۔ یہی حال میڈیا کا بھی ہے۔ میڈیا کی ناقص رپورٹنگ پھر بھی ایک مفید کام کرتی ہے، اور وہ آپ کے کام کی پبلسٹی ہے۔ پبلسٹی کے بغیر کوئی بھی کام آگے نہیں بڑھ سکتا۔ پبلسٹی لوگوں کے اندر تجسس پیدا کرتی ہے، اور تجسس پیغام کی اشاعت کا ذریعہ بنتا ہے۔
عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر
"عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر“ کا مطلب ہے عصری ذہن کے لیے اسلام کو قابلِ فہم (understandable) بنانا۔ مثلاً بنگلور کے روزنامہ سالار کے شمارہ 26 جولائی 2005 میں پہلے صفحہ پر ایک خبر شائع ہوئی تھی، جس میں بتایا گیا تھا کہ مسلم علماء کے ایک وفد کو خطاب کرتے ہوئے یہاں کے پولیس کمشنر آ جے کمار نے کہا کہ: آپ کو چاہیے کہ جمعہ کے خطبے میں نئی نسل خصوصاً نوجوان طبقے کو آپ ایسا پیغام دیں کہ ان نوجوانوں میں خود اعتمادی، وطن پرستی اور ایک اچھا شہری بننے کا جذبہ پیدا ہو جائے، وہ اپنی زندگی صرف تعمیری کاموں ہی میں صرف کریں، اور کسی طرح کے منفی جذبات ان
‹ Previous page Next page › Contents of October 2019 All issues