عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۹، صفحہ ۱۱
کے اندر پیدا نہ ہوں‘۔
اس خبر کو لے کر بنگلور کے سفر میں محمد ضیاء صاحب نے کہا کہ میں جمعہ کی نماز باقاعدہ طور پر مسجد میں ادا کرتا ہوں، اور ہر ہفتے جمعہ کے خطبات سنتا ہوں، اسی کے ساتھ میں مسلم علماء کی تقریروں میں بھی شرکت کرتا ہوں، میں نے پایا کہ کمشنر صاحب نے مسلم علماء سے جو کام کرنے کے لیے کہا ہے، وہ کام بالفعل ہو رہا ہے۔ مسلم علماء برابر مسلم نوجوانوں کے سامنے قرآن و حدیث کے حوالے سے بہت سی باتیں بتاتے رہتے ہیں، مگر نوجوانوں پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ ایسی حالت میں اصل سوال یہ ہے کہ مزید کیا کیا جائے۔ کیوں کہ جہاں تک کمشنر صاحب کے مشورے کا تعلق ہے وہ تو علماء پہلے ہی سے انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے پوچھا کہ علماء کی تقریریں بے اثر کیوں ہو رہی ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ علماء جو باتیں کرتے ہیں، وہ روایتی زبان میں ہوتی ہیں۔ روایتی زبان اپنا اثر کھو چکی ہے۔ اب ضرورت ہے کہ زمانہ حاضر کی زبان میں لوگوں کو اسلام کا مثبت پیغام پہنچایا جائے۔ میں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ علماء عرصے سے یہ کہتے رہے ہیں کہ اسلام کے خاندانی نظام میں مرد کو قوام (حاکم) کا درجہ دیا گیا ہے۔ مگر جدید تعلیم یافتہ خواتین اس پر منفی رد عمل کا اظہار کرتی رہی ہیں۔ نئے دور کی خواتین کا ذہن صنفی مساوات (gender equality) کے نظریے پر بنا ہے ۔ اس لیے ان خواتین کی سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ مرد کو خاندانی نظام میں قوام کا درجہ دیا جائے۔ اس سلسلے میں میں نے اپنا تجربہ بتایا۔ میں نے کہا کہ جدید تعلیم یافتہ خواتین، مسلم اور غیر مسلم دونوں، کے درمیان مجھے بار بار خطاب کرنے کا موقعہ ملا۔ خواتین اکثر قوامیت کے نظریہ پر اعتراض کرتی تھیں۔ میں نے لفظ بدل کر قوّام کی جگہ باس (boss) کا لفظ استعمال کیا۔ میں نے کہا کہ ہر ادارہ اور ہر دفتر کو منظم طور پر چلانے کے لیے ایک باس ہوتا ہے۔ کارکن خواتین اپنے دفتروں میں اس باس کو پوری طرح تسلیم کرتی ہیں۔ اسی طرح مرد گھر کا باس ہے۔ پھر اس لیے اعتراض کیوں: Bossism is a universal principle, and home is not an exception. میں نے اپنے تجربے میں پایا کہ جدید تعلیم یافتہ خواتین کو جب میں باس کی اصطلاح میں اس بات
‹ Previous page Next page › Contents of October 2019 All issues