اسلامی تحریک کی ابتدا
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۹، صفحہ ۲۲
بعد کسی نے اس پر اعتراض نہیں کیا، بلکہ ہر ایک نے اس پر اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا۔ خودسائی بابا نے کہا کہ ہم اپنے اسکولوں میں قرآن کو پڑھاتے ہیں، اور ہم اس پر پورا عقیدہ رکھتے ہیں۔ اس تجربے سے مجھے ایک اہم حقیقت کا علم ہوا۔ وہ یہ کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کوئی آدمی ایک لفظ بولتا ہے وہ اس لفظ کو خود اپنے ذہن کے اعتبار سے بولتا ہے مگر سننے والا اس کو اپنے ذہن کے اعتبار سے لے لیتا ہے۔ اس سے غیر ضروری قسم کے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ مثلاً سیکولرزم کے لفظ کو لیجیے، جدید تعلیم یافتہ لوگ سیکولرزم کا لفظ کثرت سے استعمال کرتے ہیں۔ اس کو سن کر مذہبی لوگ غصہ ہوتے ہیں۔ وہ سمجھ لیتے ہیں کہ جدید تعلیم یافتہ طبقہ مذہب کا دشمن ہے۔ حالانکہ یہ صرف سمجھنے کا فرق ہے۔ جدید تعلیم یافتہ طبقہ سیکولر ازم کو سادہ طور پر ایک جمہوری طریقے کے معنی میں لیتا ہے، اس کے برعکس مذہبی طبقہ سیکولر ازم کا ترجمہ "لا دینیت" کر کے اُس کو اینٹی مذہب کے معنی میں لے لیتا ہے۔ اس سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ حالاں کہ سیکولر ازم صرف ایک غیر جانب دارانہ پالیسی کا نام ہے، نہ کہ کسی مخالفانہ پالیسی کا نام۔ ۔ (بنگلور کا سفر)
اسلامی تحریک کی ابتدا
ایک تعلیم یافتہ مسلمان کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تئیس سالہ دور نبوت کو دو دوروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے— مکی دور اور مدنی دور۔ یہ دونوں دور تدریجی دور نہیں تھے، بلکہ وہ اضافی (relative) دور تھے۔ دونوں کے درمیان فرق کی اس نوعیت کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔
بعض لوگوں نے ان دونوں دوروں کو لے کر اسلام کا ایک انقلابی نظریہ بنایا ہے۔ وہ اس کے حوالے سے کہتے ہیں کہ اسلام کی تحریک دعوت سے شروع ہوتی ہے پھر پُر امن مزاحمت (passive resistance) کا زمانہ آتا ہے۔ اُس کے بعد ہجرت ہوتی ہے اور پھر اہل ایمان منظم ہو کر جنگی اقدام شروع کر دیتے ہیں۔ یہ تقسیم سرتا سر بے بنیاد ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مکی دور اور مدنی دور اسلام کی عملی تاریخ کا حصہ ہیں، وہ دعوت الی اللہ کی کسی نظری ترتیب کا اظہار نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2019 All issues