مدعو سے میل جول
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۹، صفحہ ۲۱
لوگوں کے درشن اور آشیرواد سے وہ مفروضہ طور پر سمجھتے ہیں۔ گروؤں کی یہ ساری مقبولیت در اصل فرضی امیدوں کی تجارت (false hopes business) کے ہم معنی ہے، اس کے سوا وہ اورکچھ نہیں۔ ایسی حالت میں اسلام کا مؤثر دعوتی اپروچ یہ ہوسکتا ہے کہ اسلام کے تصورِ جنت کو اُن کے سامنے نمایاں کیا جائے۔ لوگوں کو بتایا جائے کہ آپ لوگ اپنا جو مادی محل بنانا چاہتے ہیں وہ موجودہ دنیا میں بننے والا نہیں۔ موت کے بعد جنت کی دنیا ہی میں آپ کو اپنی خوشیوں کا محل مل سکتا ہے۔ جس جنت کو آپ قبل از موت مرحلہ حیات میں تلاش کر رہے ہیں، وہ صرف بعد از موت مرحلہ حیات میں حاصل ہوسکتا ہے۔ میرے تجربہ کے مطابق یہی اسلوب زیادہ مؤثر ہے۔ اس کو دین کی مادی تعبیر نہیں کہا جاسکتا۔ کیوں کہ مادی تعبیر ہمیشہ مادی دنیا کے حوالے سے کی جاتی ہے۔ جب کہ جنت کی بات جب بھی کی جائے گی آخرت کے حوالے سے کی جائے گی۔ اس کو جنتی تعبیر تو کہہ سکتے ہیں لیکن اس کو مادی تعبیر نہیں کہا جاسکتا۔ (بنگلور کا سفر)
مدعو سے میل جول
پٹیا پرتھی کے سفر سے پہلے میری ملاقات دہلی میں ایک صاحب سے ہوئی، جو ایک بڑے مدرسے میں تدریس کا کام کرتے ہیں۔ اُن سے اس سفر کا ذکر ہوا تو انہوں نے کہا کہ سائی بابا کے ماننے والے تو اُن کو خدا کہتے ہیں، اس قسم کا عقیدہ کھلا ہوا شرک ہے۔ اس مشرکانہ ماحول میں جانا آپ کے لیے درست نہیں۔ مگر اس کانفرنس میں شرکت کے بعد مجھے ایک ایسی حقیقت دریافت ہوئی جو دعوتی کام کرنے والوں کے لیے بہت ضروری ہے۔ یہاں مجھے معلوم ہوا کہ سائی بابا خود تو اپنے کو خدا نہیں بتاتے ہیں، مگر ان کے معتقدین ان کے بارے میں ایسا ہی کہتے ہیں۔ مگر اہم بات یہ ہے کہ اس کانفرنس میں مجھے اسلام پر بولنے کے لیے بلایا گیا۔ کسی شرط کے بغیر ایک عظیم مجمع کے سامنے مجھے اسلام پر بولنے کا موقع دیا گیا۔ میں نے اپنی تقریر میں صاف طور پر کہا کہ اسلام کا مقصد ہے انسان کو خدا کا پرستار (worshipper of God) بنانا۔ سائی بابا کے معتقدین ان کی حد درجہ تعظیم کرتے تھے۔ مگر میں یہاں اسی طرح رہا، جس طرح سیکولر کانفرنسوں میں رہتا ہوں۔ میری تقریر کے
‹ Previous page Next page › Contents of October 2019 All issues