اسلام کیوں قبول کیا
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۹، صفحہ ۲۴
تو نے ڈالا تھا ہم سے اگلوں پر۔
حقیقت یہ ہے کہ نبوت محمدی کے ظہور کے بعد تاریخ میں تدریجی تغیر کا ایک عمل شروع ہوا۔ جس کے نتیجے میں آخر کار یہ ہوا کہ اسلامی دعوت کے راستے کی تمام رُکاوٹیں ختم ہوگئیں، اور داعیوں کے لیے یہ ممکن ہو گیا کہ وہ آزادانہ ماحول میں دعوت الی اللہ کا عمل جاری کر سکیں۔ مگر بدقسمتی سے زمانۂ جدید کے یہ قیمتی مواقع استعمال نہ ہو سکے۔ اس کا سب سے بڑا سبب مذکورہ قسم کا نام نہاد انقلابی نظریہ ہے۔ اس نظریے کے ماننے والوں کے دماغ میں یہ بسا ہوا تھا کہ اگر زندان و سلاسل کی جھنکار بلند نہ ہو اور جنگ و جدال کا معرکہ گرم نہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ دعوت الی اللہ کا کام ہی نہیں ہوا۔ چنانچہ انہوں نے خود ساختہ طور پر مڈ بھیڑ اور مسلح ٹکراؤ کی صورتیں پیدا کر رکھیں ہیں، اور اس کے بعد پُر فخر طور پر کہتے ہیں کہ دیکھو، ہم وہ لوگ ہیں، جو حقیقی دعوت الی اللہ کا کام کرتے ہیں۔ انقلابی اسلام کے ان نام نہاد مجاہدین پر صحابیِ رسول حضرت عبداللہ بن عمر کے الفاظ صادق آتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت ہدایات کے باوجود جب خلافتِ راشدہ کے آخری زمانے میں مسلمان اسلام کے نام پر خونیں لڑائی لڑنے لگے، اُس وقت حضرت عبداللہ بن عمر نے اس کے خلاف آواز بلند کی۔ انہوں نے کہا کہ تم لوگ اپنے اس متشددانہ عمل کو جہاد سمجھتے ہو حالاں کہ وہ ہرگز جہاد نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے رسول اللہ کی قیادت کے تحت لڑ کر فتنے کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا تھا، اب تم اپنی خود ساختہ لڑائی کے تحت اس ختم شدہ فتنے کو دوبارہ زندہ کر رہے ہو۔ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4513) (بنگلور کا سفر)
اسلام کیوں قبول کیا
میرے ساتھی نے نو مسلم سے پوچھا کہ آپ یہودیت کو چھوڑ کر اسلام میں کیسے آئے۔ انہوں نے جواب دیا کہ پہلے گویا کہ میں چاند پر تھا اور اب میں زمین پر آ گیا ہوں: Earlier I was living on the moon, now I am living on earth. مذکورہ نو مسلم کا مطلب یہ تھا کہ پہلے میں اپنی فطرت کی مطلوب دنیا کے لیے گویا خلا میں
‹ Previous page Next page › Contents of October 2019 All issues