مبنی بر مواقع پلاننگ
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۹، صفحہ ۲۹
رسول اللہ نے قدیم مکہ میں اسی اصول کو منطبق (apply) کیا۔ اس کا طریقہ یہ تھا کہ ٹکراؤ کے بغیر جو پہلو آپ کے لیے ممکن تھا، اس کو اختیار کیا۔ اس وقت کے ماحول میں اس کا طریقہ یہ تھا کہ آپ نے بت پرستی کے کلچر سے براہ راست ٹکراؤ نہیں کیا، بلکہ آپ نے دو چیزوں کو ایک دوسرے سے الگ کر کے دیکھا۔ ایک پہلو تھا بت پرستی کا عمل۔ اور اس کا دوسرا پہلو تھا، بت پرستی کلچر کی وجہ سے لوگوں کا وہاں جمع ہونا۔
آپ نے لوگوں کے جمع ہونے کے پہلو کو لیا، اور ان کو اپنے مشن کے لیے بطور آڈینس استعمال کیا۔ سیرت کی کتابوں میں اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ مثلاً مکہ کا ایک واقعہ ان الفاظ میں نقل ہوا ہے: عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ أَشْيَاخِ مِنْ قَوْمِهِ، قَالُوا: لَمَّا لَقِيَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُمْ: مَنْ أَنْتُمْ؟ قَالُوا: نَفَرٌ مِنَ الْخَزْرَجِ، ... قَالَ: أَفَلَا تَجْلِسُونَ أُكْلِّمُكُمْ؟ قَالُوا: بَلَى. فَجَلَسُوا مَعَهُ، فَدَعَاهُمْ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَعَرَضَ عَلَيْهِمُ الْإِسْلَامَ، وَتَلَا عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ ... وَكَانُوا هُمْ أَهْلَ شِرْكٍ وَأَصْحَابَ أَوْثَانِ (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 428) ۔ یعنی عاصم بن عمر بن قتادہ اپنی قوم کے بزرگوں سے روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنو خزرج کے کچھ لوگوں سے ملے، تو آپ نے ان سے کہا کہ تم کون ہو، انھوں نے جواب دیا کہ ہم خزرج کے لوگ ہیں۔ آپ نے کہا: کیا تم لوگ بیٹھو گے تا کہ میں تم لوگوں سے بات کروں؟ انھوں نے کہا: کیوں نہیں۔ وہ لوگ آپ کے ساتھ بیٹھ گئے۔ تو آپ نے ان کو اللہ کی طرف دعوت دی، اور ان کے سامنے اسلام پیش کیا، اور ان کو قرآن پڑھ کر سنایا۔ اور وہ لوگ اہل شرک تھے، اور بت پوجنے والے۔
☆☆☆☆☆ احیائے اسلام کا مطلب ہے، تبدیلی زمانے کے اعتبار سے اسلام کا مطالعہ کر کے اسلام کو سمجھنا، اور اپلائی کرنا۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2019 All issues