Al-Risala · October 2019 · page 28

مبنی بر مواقع پلاننگ

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۹، صفحہ ۲۸

مبنی بر مواقع پلاننگ

اجتماعی زندگی میں کام کرنے کے دو طریقے ہوتے ہیں۔ ایک ہے غیر نزاعی طریقہ (non-confrontational approach)، اور دوسرا ہے نزاعی طریقہ (confrontational approach)۔ موجودہ زمانے میں جو سیاسی طریقہ عام طور پر رائج ہوا ہے، وہ زیادہ تر نزاعی طریقہ ہوتا ہے، یعنی برسر اقتدار پارٹی سے نزاع کرتے ہوئے اپنا طریق کار متعین کرنا۔ اس معاملے میں دوسرا طریقہ تعمیری طریقہ ہے۔ تعمیری طریقہ غیر نزاعی بنیاد پر بنایا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجود صورت حال کو بدلنے کی کوشش نہ کرنا، بلکہ غیر نزاعی انداز اختیار کرنا۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا آزادی کے اصول پر بنی ہے۔ ہر انسان کو مکمل آزادی ہے۔ ایسی حالت میں جب بھی ایک شخص کوئی کام کرتا ہے، تو اس کو فوراً محسوس ہوتا ہے کہ اس کے کام اور دوسرے کے کام میں ٹکراؤ ہے۔ ایسی حالت میں طریق کار کیا ہونا چاہیے۔

اس سلسلے میں جب پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے، تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی سنتوں میں سے ایک سنت وہ ہے، جس کو غیر نزاعی طریقہ کہا جاسکتا ہے۔ اس معاملے کی ایک مثال یہ ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے قدیم مکہ میں اپنا مشن شروع کیا، تو اس وقت جو لوگ وہاں آباد تھے، ان کی اکثریت بت پرستی یا عبادتِ اصنام کے کلچر کو مانتی تھی۔ ایسی حالت میں رسول اللہ کے لیے اپنے مشن کو اختیار کرنا، فوری طور پر ٹکراؤ پیدا کرنے والا تھا۔ پیغمبرِ اسلام نے اس موقع پر وہ طریقہ اختیار کیا، جس کو حضرت عائشہ نے اپنی زبان میں اس طرح بیان کیا ہے: مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ، أَحَدُهُمَا أَيْسَرُ مِنَ الْآخَرِ، إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2327)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو معاملے میں سے ایک کا اختیار دیا گیا، جن میں سے ایک دوسرے سے آسان ہو، تو آپ نے دونوں میں سے آسان تر کا انتخاب کیا۔ اختیارِ ایسر کا مطلب ہے، کنفرنٹیشنل میتھڈ کے بجائے نان کنفرنٹیشنل میتھڈ کو اختیار کرنا۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2019 All issues

Printed page