رحمت، سیف
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۹، صفحہ ۳۶
رحمت، سیف
قرآن میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمة للعالمین (الانبیاء، 21:107) کہا گیا ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ آپ نے کہا: وَنَبِيُّ الرَّحْمَةِ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2355) یعنی میں رحمت والا نبی ہوں۔ ایک طرف پیغمبر اسلام کی حیثیت کے بارے میں اس قسم کے کھلے بیانات ہیں۔ دوسری طرف حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا: إِنَّ اللَّهَ بَعَثَنِي بِسَيْفِي بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ، وَجَعَلَ رِزْقِي تَحْتَ ظِلٍّ رُمُحِي (سنن سعید بن منصور، حدیث نمبر 2370) یعنی بے شک اللہ نے قیامت سے پہلے مجھے میری تلوار کے ساتھ بھیجا ہے، اور میرا رزق میرے نیزے کے سائے کے نیچے رکھ دیا ہے۔ یہ دونوں باتیں ایک دوسرے سے مختلف نظر آتی ہیں۔ مگر ان میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ یہ در حقیقت دو الگ الگ پہلو ہیں۔ رحمت کی بات ایک پہلو سے کہی ہے، اور سیف کی بات دوسرے پہلو سے۔ اصل یہ ہے کہ صرف پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ہی رحمت کے پیغمبر نہ تھے، بلکہ خدا نے جتنے پیغمبر بھیجے وہ سب پیغمبر رحمت ہی تھے۔ سب کے سب دین رحمت ہی لے کر آئے۔ مثال کے طور پر قرآن میں حضرت موسیٰ کی کتاب کو رحمت فرمایا گیا ہے (سورہ ھود، 11:17)۔ مگر فرق یہ ہے کہ پچھلے پیغمبروں کے ساتھ کوئی طاقت ور ٹیم تیار نہ ہوسکی، جو پیغمبروں کے مشن کے حق میں مؤثر طور پر حمایت اور دفاع کا کام کر سکے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پچھلے پیغمبروں کے مشن کو مخالفین نے عملی طور پر آگے بڑھنے نہیں دیا۔ پچھلے پیغمبروں کے زمانہ میں خدا کا دین صرف فکری تحریک کے مرحلہ میں رہا، وہ فکری انقلاب کے مرحلہ تک نہیں پہنچا۔
اس کے برعکس پیغمبر اسلام کو خدا کی مدد سے ’اصحابِ سیف‘، بالفاظ دیگر، طاقت و حمایتی گروہ حاصل ہو گیا۔ چنانچہ مخالفین نے جب جارحیت کر کے آپ کے پُر امن مشن کو دبانا، اور مٹانا چاہا، تو آپ بھی اپنے ساتھیوں کی مدد سے اس پوزیشن میں تھے کہ ان کی جارحیت کا مؤثر جواب دے کر ان کے مخالفانہ عزائم کو نا کام بنا دیں۔ مذکورہ قسم کی احادیث میں نیزہ اور تلوار کا لفظ آپ کی دفاعی طاقت کو بتانے کے لیے ہے، نہ کہ آپ کی اصل پیغمبرانہ حیثیت کو بتانے کے لیے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2019 All issues