بین اقوامی رواج
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۹، صفحہ ۳۷
بین اقوامی رواج
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری زمانہ میں عرب کے دو آدمیوں نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ ایک یمامہ کا مسیلمہ بن حبیب، اور دوسرا صنعاء کا اسود بن کعب عنسی۔ مسیلمہ نے 10 ہجری میں ایک خط رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا۔ اس خط کا مضمون یہ تھا: اللہ کے رسول مسیلمہ کی جانب سے اللہ کے رسول محمد کے نام، سلام علیک، اما بعد، بے شک میں نبوت کے معاملہ میں آپ کے ساتھ شریک کیا گیا ہوں، اس لیے نصف زمین ہمارے لیے اور نصف زمین قریش کے لیے۔ مسیلمہ کی طرف سے دو قاصد اس کا یہ خط لے کر مدینہ آئے۔ ان کا نام ابن النواحہ اور ابن اثال تھا۔ اس کے بعد روایت میں آتا ہے: قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ جَاءَهُ رَسُولَا مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابِ بِكِتَابِهِ يَقُولُ لَهُمَا: ”وَأَنْتُمَا تَقُولَانِ مِثْلَ مَا يَقُولُ؟ “ قَالَا: نَعَمْ ! فَقَالَ: أَمَا وَاللَّهِ لَوْلَا أَنَّ الرُّسُلَ لَا تُقْتَلُ لَضَرَبْتُ أَعْنَاقَكُمَا (راوی کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا جب کہ مسیلمہ کذاب کے دونوں قاصد اس کا خط لے کر آئے، کیا تم دونوں بھی وہی کہتے ہو جو وہ کہتا ہے۔ دونوں نے کہا کہ ہاں۔ آپ نے فرمایا کہ خدا کی قسم، اگر یہ بات نہ ہوتی کہ قاصدوں کو قتل نہیں کیا جاتا تو میں تم دونوں کی گردنیں کٹوادیتا راوی حضرت عبد اللہ بن مسعود کہتے ہیں: فَمَضَتِ السُّنَّةُ بِأَنَّ الرُّسُلَ لَا تُقْتَلُ (البدایۃ والنہایہ، 5/62)۔ یعنی پھر یہ سنت جاری ہو گئی کہ قاصدوں کو قتل نہ کیا جائے۔ اس سنت نبوی سے اسلام کا ایک نہایت اہم اصول معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ بین اقوامی معاملات میں بین اقوامی رواج پر عمل کیا جائے گا۔ ہر زمانہ میں بین اقوامی تعلقات کے لیے کچھ رواج ہوتے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں بھی اس قسم کے بہت سے رواج ہیں۔ اب اقوام متحدہ نے ان کو زیادہ منظم صورت دے دی ہے۔ اس قسم کے تمام رواج مسلم ملکوں میں بھی اسی طرح قابل احترام ہوں گے، جس طرح غیر مسلم ملکوں میں ان کو قابل احترام سمجھا جاتا ہے۔ البتہ اگر اس قسم کے معاملات میں کوئی ایسی چیز یا رواج پایا جائے جو صراحتاً حرام ہو۔ مثلاً بین اقوامی میٹنگوں میں شراب پیش کرنا، تو اس مخصوص جز کی حد تک اس کی پیروی نہیں کی جائے گی۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2019 All issues