پیغمبرانہ ماڈل سے انحراف
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۹، صفحہ ۴۴
اُس وقت صدام حسین کے پاس عراق کے مختلف مقامات پر بڑے بڑے محل تھے۔ اِس کے علاوہ، اُن کے ذاتی اکاؤنٹ میں کئی بلین ڈالر موجود تھے۔ اُن کے لیے یہ ممکن تھا کہ وہ اقتدار کے بجائے ایجوکیشن کو اپنا نشانہ بنائیں۔ اگر وہ اِس طرح تعمیری انداز میں سوچتے تو وہ یقینی طور پر عراق میں کم از کم 8 بڑے بڑے تعلیمی سنٹر قائم کر سکتے تھے۔ یہ اُن کے لیے اپنی زندگی کا بہترین استعمال ہوتا، اور وہ اُن کے بعد اُن کے لیے ایک عظیم صدقہ جاریہ بن جاتا، لیکن وہ ایسا نہ کر سکے، اور صرف ناکامی کی موت مر کر اس دنیا سے چلے گئے۔
مسلمانوں کے خطیب پر جوش الفاظ کے ذریعے مسلمانوں کے ہر فعل کو کم از کم الفاظ کی دنیا میں جائز ثابت کر رہے ہیں۔ مثلاً آج کل مسلمان اپنی منفی سوچ اشتعال کی بنا پر مختلف مقامات پرگن کلچر چلا رہے ہیں، حتیٰ کہ وہ خود کش بم باری کرتے ہیں۔ اِس بنا پر دوسرے لوگ اُنھیں ٹررسٹ (terrorist) کہنے لگے ہیں۔ اب ایک خطیب اسٹیج پر آتا ہے اور پُر جوش انداز میں کہتا ہے— ہاں، ہم ٹررسٹ ہیں، لیکن ہم ٹررسٹ کس کے لیے ہیں۔ ہم مجرموں کے لیے ٹررسٹ ہیں، جیسا کہ پولیس ہوتی ہے: Every Muslim should be a terrorist. A terrorist is a person, who causes terror. The moment a robber sees a policeman, he is terrified. A policeman is a terrorist for the robber. Similarly, every Muslim should be a terrorist for the anti-social elements of society, such as thiefs, dacoits, and rapists. Whenever, such an anti-social element sees a Muslim, he should be terrified. اِن باتوں کو سن کر مسلمان خوش ہوتے ہیں اور تالیاں بجاتے ہیں، حالاں کہ یہ سرتا سر ایک لغو بات ہے۔ مجرموں کے خلاف کارروائی کرنا پولیس اور عدالت کا کام ہے، وہ عوام کا کام نہیں۔ عام مسلمان کا کام پُرامن نصیحت کرنا ہے، نہ کہ انھیں ٹرائز (terrorize) کرنا۔ اِس قسم کی بات اسلامی تعلیمات کے بھی خلاف ہے، اور سیکولر قانون کے بھی خلاف۔ حیرت یہ ہے کہ مسلمان اِس قسم کی باتیں سن کر صرف تالیاں بجاتے ہیں۔ اگر وہ مجرمین کے خلاف ٹررسٹ بن جائیں تو وہ خود قانون کی نظر میں مجرم قرار پائیں گے، اور سخت سزا کے مستحق ہوں گے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2019 All issues