پیغمبرانہ ماڈل سے انحراف
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۹، صفحہ ۴۳
مودودی کی سیاسی سرگرمیوں کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلا، یہاں تک کہ 1979 میں وہ وفات پاگئے۔ اس فہرست میں ایک اور نام میرے نزدیک، بے نظیر بھٹو (2007-1953) کا بھی ہے۔ بے نظیر بھٹو اگر چہ مذہبی شخصیت نہ تھی، لیکن انھیں اس میدان میں کام کا نہایت اعلی موقع ملا۔ بے نظیر بھٹو کی تعلیم یورپ اور امریکا میں ہوئی تھی۔ انگریزی زبان پر انھیں پوری قدرت حاصل تھی۔ وہ دو بار پاکستان کی پرائم منسٹر بنیں۔ اس طرح کے مختلف اسباب سے انھیں غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی۔ آخری زمانے میں جب کہ وہ لندن میں مقیم ہوگئی تھیں، ان کو مغرب کے اداروں اور یونیورسٹیوں کی طرف سے اسلام پر لیکچر دینے کے لیے بلایا جانے لگا۔
موجودہ زمانے میں اسلام کی ایک بہت بڑی ضرورت وہ ہے، جس کو امیج بلڈنگ (image building) کہا جاتا ہے، یعنی اسلام کی بگڑی ہوئی تصویر کی تصحیح کرنا۔ بے نظیر بھٹو اپنی خصوصی حیثیت کی بنا پر یہ کام اعلی درجے پر کر سکتی تھیں۔ لیکن یہ کام شاید ان کو ایک کمتر کام نظر آیا۔ وہ غالباً سیاسی قیادت کے شوق میں پاکستان دوبارہ لوٹ آئیں، مگر نتیجہ صرف یہ نکلا کہ چند دن کے سیاسی ہنگامے کے بعد 28 دسمبر 2007 کو اُنھیں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ بوقت وفات ان کی عمر صرف 54 سال تھی۔
یہی معاملہ عراق کے حکمراں صدام حسین (2006-1937) کے ساتھ پیش آیا۔ صدام حسین کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ عرب حکمرانوں میں سب سے زیادہ ذی علم آدمی تھے۔ ان کے حالات نے اُن کو موقع دیا کہ وہ عراق میں مطلق حکم راں کی حیثیت حاصل کر لیں۔ اس طرح انھوں نے عراق میں تقریباً 25 سال تک حکمرانی کی۔ انھوں نے انتہائی حقیقت پسندانہ انداز اختیار کرتے ہوئے، وہ جنگ چھیڑ دی جس کو وہ اُم المعارک (mother of battles) کہتے تھے۔ اس مفروضہ جنگ کو کامیاب بنانے کے لیے انھوں نے ناعاقبت اندیشانہ اقدامات کیے ۔ انھوں نے غیر ضروری طور پر امریکا سے جنگ چھیڑ دی۔ جس کا متوقع انجام صرف یہ ہوا کہ اُن کو 30 دسمبر 2006 کو خود اپنے ملک عراق میں پھانسی دے دی گئی ۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2019 All issues