Al-Risala · November 2019 · page 8

حق کی تلاش

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۹، صفحہ ۸

چیزوں کو دریافت کرتے ہیں۔ لیکن یہ طریقہ خالق (خدا) کے معاملے میں قابل عمل نہ تھا۔ اس لیے وہ کامیاب بھی نہیں ہوا۔ سیکولر فلاسفہ اور مذہبی متکلمین دونوں کا کیس اس معاملے میں ایک ہی ہے۔ اس معاملے کا صحیح طریق کار کیا ہے۔ اس کی رہنمائی تاریخ میں پہلی بار اسرائیلی پیغمبر حضرت موسیٰ کے قصے میں ملتی ہے۔ پیغمبر موسیٰ ساڑھے تین ہزار سال پہلے قدیم مصر میں پیدا ہوئے ۔ ان کا قصہ تفصیل کے ساتھ قرآن میں آیا ہے۔ ان کے ساتھ یہ واقعہ کوہ طور پر پیش آیا، جو صحرائے سینا میں 2285 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ اس واقعہ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان خدا کو براہ راست نہیں دیکھ سکتا۔ خدا کے وجود کا علم انسان کو صرف بالواسطہ طور پر حاصل ہوتا ہے، یعنی تخلیق (creation) پر غور کر کے خالق (Creator) کے علم تک پہنچنا۔ پیغمبر موسیٰ کے تجربے کی صورت میں یہ رہنمائی تاریخ میں ساڑھے تین ہزار سال سے موجود تھی، لیکن اہل علم کبھی اس طریقہ کار (methodology) کو اختیار نہ کر سکے ۔ وہ بدستور اس کوشش میں لگے رہے کہ وہ خالق کو براہ راست دریافت کر سکیں۔

حدیث کی مشہور کتاب صحیح البخاری میں ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے: إِنَّ اللَّهَ لَيُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر (3062) ۔ یعنی بیشک اللہ ضرور ہی اس دین کی تائید فاجر آدمی کے ذریعے کرے گا۔ اس حدیث میں الرجل الفاجر سے مراد سیکولر انسان ہے۔ اس طرح حدیث میں مستند طور پر یہ سراغ (clue) موجود تھا کہ اس معاملے میں ایک سیکولر انسان ہوگا جو ابتدائی رہنمائی فراہم کرے گا۔ لیکن فلاسفہ اور مسلم متکلمین دونوں اس معاملے میں صحیح رہنمائی تک نہ پہنچ سکے۔

راقم الحروف لمبی مدت تک اس موضوع پر غور کرتا رہا ہے، اور آخر کار اس دریافت تک پہنچا کہ صحیح البخاری میں جس الرجل الفاجر (سیکولر انسان) کا ذکر ہے، وہ غالباً اٹلی کا سائنسداں گلیلیو گلیلی (Galileo Galilei) ہے، جو چار سو سال پہلے پیدا ہوا۔ اس معاملے میں گلیلیو کا رول چونکہ براہ راست نہیں تھا، بلکہ بالواسطہ تھا۔ یعنی اس کی دریافت سے بالواسطہ طور پر اس سوال کا جواب مل رہا

‹ Previous page Next page › Contents of November 2019 All issues

Printed page