Al-Risala · November 2019 · page 9

حق کی تلاش

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۹، صفحہ ۹

تھا کہ خدا کی دریافت تک پہنچنے کا طریقہ کار (method) کیا ہے۔

گلیلیو گلیلی کے زمانے میں ایک واقعہ ہوا، جس کو نیوٹن کے ایپل شاک (apple shock) کی طرح ٹیلی شاک (tele-shock) کہا جاسکتا ہے، یعنی دوربین کی دریافت۔ آئن سٹائن نے لکھا ہے کہ گلیلیو جدید سائنس کا بانی تھا:

Galileo was the “father of modern science.”

یہ ایک حقیقت ہے کہ گلیلیو سے سائنس میں نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔ لیکن اس دور کے آغاز کا اصل سبب یہ تھا کہ اس زمانے میں دوربین (telescope) کو 1608 میں ابتدائی طور پر ہالینڈ میں ایجاد کر لیا گیا تھا۔ اس کے بعد 1609 میں گلیلیو نے اس دوربین کا ترقی یافتہ وزن (developed version) خود سے تیار کیا، اور پہلی بار دوربین کو استعمال کر کے شمسی نظام (solar system) کا جزئی مشاہدہ کیا۔ اس مطالعے کے ذریعے گلیلیو نے پہلی بار یہ دریافت کیا کہ ارسطو کا قدیم نظریہ غلط تھا کہ سورج زمین کے گرد گھومتا ہے۔ بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔ اس نظریے کو علم کی زبان میں ہیلیو سینٹرک تھیری (heliocentric theory) کہا جاتا ہے۔ جب کہ اس سے پہلے دنیا میں جیو سینٹرک تھیری (geocentric theory) کا رواج تھا۔ اس لحاظ سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ جس طرح نیوٹن کی کشش ثقل کا نظریہ ایپل شاک کے واقعے کے بعد دریافت ہوا، اسی طرح گلیلیو کی دریافت کا آغاز ٹیلی شاک‘ کے بعد پیش آیا۔ یہی واقعہ جدید سائنس (modern science) کے آغاز کا سبب بنا۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ دوربین کی ایجاد سے نئے سائنسی دور کا آغاز ہوا، اور اس امکان کو پہلی بار جس نے استعمال کیا، وہ اٹلی کا سائنس داں گلیلیو گلیلی تھا۔

گلیلیو کو جدید سائنس کا بانی اس لیے کہا جاتا ہے کہ گلیلیو نے ایک چیز کو دوسری چیز سے ڈی لنک (delink) کر دیا۔ اس تعلق سے ڈاکٹر الیکس کیرل (1944-1873) لکھتے ہیں— گلیلیو نے چیزوں کی ابتدائی صفات کو، جو ابعاد اور وزن پر مشتمل ہیں، اور جن کی آسانی سے پیمائش کی

‹ Previous page Next page › Contents of November 2019 All issues

Printed page