Al-Risala · November 2019 · page 11

حق کی تلاش

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۹، صفحہ ۱۱

قابل مشاہدہ پہلو کو دریافت کر کے ناقابل مشاہدہ پہلو تک پہنچنا ممکن ہو جائے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ علمی طور پر یہ ممکن ہو گیا کہ قابل مشاہدہ مخلوق کو دریافت کر کے ناقابل مشاہدہ خالق کی بالواسطہ معرفت حاصل کی جا سکے، یعنی وہ طریقہ جس کو استنباطی طریقہ (inferential method) کہا جاتا ہے۔ سائنسی تحقیق میں اس طریقی کار کے استعمال کے نتیجے میں بالواسطہ انداز میں خدائی حقیقتیں قابل دریافت ہو گئیں۔ چنانچہ بیسویں صدی میں اس موضوع پر بڑی تعداد میں مقالات اور کتابیں لکھی گئی ہیں۔ یہاں اس قسم کی صرف ایک کتاب کا حوالہ دیا جاتا ہے :

The Evidence of God in an Expanding Universe: Forty American Scientists Declare Their Affirmative Views on Religion (John Clover Monsma, G. P. Putnam's Sons, 1958, pp. 250)

اس کتاب کا عربی زبان میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ اس کا عربی ٹائٹل یہ ہے: الله يتجلى في عصر العلم (مترجم: الدمرداش عبدالمجید سرحان، مؤسسة الحلبي وشركاه للنشر والتوزيع، 1968)۔ راقم الحروف اپنے بارے میں یہ کہہ سکتا ہے کہ میں نے اسی کام کو اپنا اصل موضوع بنایا۔ وسیع مطالعے کے بعد میں نے اس موضوع پر بہت سے مقالے اور کتابیں شائع کیں ۔ ان میں سے ایک بڑی کتاب وہ ہے جو اردو زبان میں مذہب اور جدید چیلنج کے نام سے 1966 میں شائع ہوئی۔ اس کتاب کا عربی ترجمہ ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے کیا۔ عربی ٹائٹل کا نام ہے: الاسلام يتحدى۔ یہ عربی ورژن پہلی بار قاہرہ سے 1976 میں چھپا اور یہ 196 صفحات پر مشتمل تھا۔ اس کے بعد اس کے بہت سے ایڈیشن بار بار شائع ہوتے رہے ۔ اس کتاب کا انگریزی ترجمہ، گاڈ ارائزز (God Arises) کے نام سے شائع ہوا۔ یہ کتاب 1987 میں پہلی بار دہلی سے چھپی۔

ان دو پہلوؤں کی تفریق (delinking) کے بعد جو سائنسی معلومات سامنے آئیں، ان کو استعمال کر کے مذہب کی صداقت از سر نو ثابت شدہ بن گئی ۔ اس موضوع پر راقم الحروف نے کثیر تعداد میں مضامین لکھے ہیں۔ اگلے صفحات پر اس قسم کی کچھ مذہبی صداقتوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2019 All issues

Printed page