بے نقص کائنات
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۹، صفحہ ۱۲
بے نقص کائنات
کائنات مکمل طور پر ایک بے نقص (zero-defect) کائنات ہے۔ قرآن میں کائنات کے اس پہلو کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ ان آیتوں کا ترجمہ یہ ہے : یعنی جس نے بنائے سات آسمان درجہ بدرجہ، تم رحمن کے بنانے میں کوئی خلل نہیں دیکھو گے، پھر نگاہ ڈال کر دیکھ لو، کہیں تم کو کوئی خلل نظر آتا ہے (ھَلْ تَرَى مِنْ فُطُورٍ) ۔ پھر بار بار نگاہ ڈال کر دیکھو، نگاہ نا کام تھک کر تمہاری طرف واپس آجائے گی (4-67:3) ۔
قرآن کی اس آیت میں کائنات کو بے فطور (flawless) کہا گیا ہے۔ جس وقت قرآن میں یہ آیت اتری، اس وقت انسان کو معلوم نہ تھا کہ کائنات ایک بے نقص کائنات ہے۔ انسان سورج چاند کو دیکھتا تھا، سمندروں اور پہاڑوں کو دیکھتا تھا۔ اس سے اس کے اندر ایک تحیر کا احساس (sense of awe) پیدا ہو جاتا تھا۔ اس سے کائنات کی پرستش (nature worship) کا تصور پیدا ہوا۔ خالق کا جو اصل مقصود تھا، وہ یہ تھا کہ انسان کائنات کے بے فطور (flawless) پہلو کو جانے ، اور اس طرح خالق کی قدرت کو دریافت کرے ۔ مگر ہزاروں سال تک کائنات کا یہ پہلو غیر دریافت شدہ بنا رہا۔
پچھلے تقریباً چار سو سال کے درمیان سائنس کے میدان میں جو دریافتیں ہوئی ہیں، انھوں نے پہلی بار انسان کو بتایا کہ کائنات میں کمال درجے کی معنویت پائی جاتی ہے۔ کائنات ویل پلانڈ (well planned) کائنات ہے، کائنات ایک ویل مینجڈ (well managed) کائنات ہے، کائنات ایک ویل ڈیزائنڈ (well designed) کائنات ہے، کائنات ایک ویل ڈسپلنڈ (well disciplined) کائنات ہے۔ اب سائنسداں عام طور پر یہ مانتے ہیں کہ کائنات ایک انٹیلیجنٹ کائنات (intelligent universe) ہے۔ حتیٰ کہ اب یہ ایک باقاعدہ موضوع بن گیا ہے، جس پر بہت سی کتابیں اور رسالے شائع کیے جا رہے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2019 All issues