بے نقص کائنات
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۹، صفحہ ۱۳
نیوٹن کے زمانے میں کائنات کو ایک میکینیکل کہا جاتا تھا۔ لیکن مزید ریسرچ سے یہ نظریہ غلط ثابت ہو گیا۔ سائنس کے مختلف شعبوں میں جو ریسرچ ہوئی ہے، اس سے اب یہ بات تقریباً واقعہ (fact) بن چکی ہے کہ کائنات ایک ذہین کائنات (intelligent universe) ہے۔ کائنات کو ذہین کائنات ماننے کے بعد یہ معاملہ ایک لفظی مسئلہ بن جاتا ہے۔ کائنات کو ذہین کائنات ماننا دوسرے لفظوں میں یہ ماننا ہے کہ یہ کائنات ایک ذہین خالق کی تخلیق ہے۔ اس کے سوا اس کا کوئی اور مفہوم نہیں ہو سکتا۔ اس موضوع پر غالباً پہلی باقاعدہ کتاب فریڈ ہائل (Fred Hoyle) کی تھی، جس کا نام تھا: ذہین کائنات :
The Intelligent Universe: A New View of Creation and Evolution (1983)
مگر اب ذہین ڈیزائن کے موضوع پر بڑی تعداد میں کتابیں اور مقالے چھپ چکے ہیں۔ ان کتابوں اور مقالات کو کسی بڑی لائبریری میں یا انٹرنیٹ پر دیکھا جا سکتا ہے۔ ☆☆☆☆☆ ایک سائنس داں، پروفیسر کارل ٹرال نے کہا۔ میری زندگی کا حاصل بحیثیت سائنٹسٹ اور جغرافیہ داں یہ ہے کہ میں زیادہ سے زیادہ خالق کا شکر گزار ہو گیا ہوں۔ “The fruit of my life as scientist and geographer is to have become more and more deeply grateful to our Creator.”
Prof. Carl Troll was president of the International Geographical Union from 1960 to 1964 سائنس داں جب قدرت کا مطالعہ کرتا ہے تو اس کے اندر قدرت کی عظمت کا بے پناہ احساس ابھرتا ہے۔ اس کا اندرونی وجود اُس ہستی کے آگے جھک جاتا ہے، جس نے اتنی بامعنی کائنات بنائی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ دور میں خدا کے انکار کا ذہن سائنس دانوں نے نہیں بنایا۔ یہ دراصل کچھ ملحد فلاسفہ تھے جنھوں نے سائنسی دریافتوں کو غلط رخ دے کر اس سے خود ساختہ طور پر انکارِ خدا کا مطلب پیدا کیا۔ حالاں کہ یہ سائنسی دریافتیں زیادہ درست طور پر اقرارِ خدا کی طرف اشارہ کر رہی تھیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2019 All issues