Al-Risala · November 2019 · page 19

Nature and Science Speak about God

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۹، صفحہ ۱۹

ساتھ پیسنے کا کام بھی کرتے ہیں۔ تاہم لکڑی خواہ کتنی ہی پیس ڈالی جائے، وہ بہر حال لکڑی ہی رہے گی، اور پیٹ میں جا کر غذا کی ضرورت پوری کرنے کے بجائے صرف بد ہضمی پیدا کرے گی۔ پھر کیا چیز ہے، جو دیمک کی مدد کرتی ہے۔ اس کام کے لیے دیمک کی آنتوں میں نہایت چھوٹے چھوٹے خورد بینی کیڑے موجود ہیں۔ یہ کیڑے نگلی ہوئی لکڑی پر مخصوص عمل کر کے اس کے اندر ایسی تبدیلیاں پیدا کر دیتے ہیں کہ وہ ہضم ہو کر جزو بدن ہو سکے۔ یہ حیرت انگیز انتظام کون کرتا ہے۔ مرغی کے انڈے پر غور کیجیے۔ ہر ایک انڈے میں سات ایسی مختلف خصوصیات پائی جاتی ہیں، جو اتنی اہم ہیں کہ ان میں سے ایک بھی اگر نہ ہو تو انڈا، انڈا نہ رہے گا چُونے کا خول، خول کے اندر مسامات جو ہوا کو گزرنے کا راستہ دیتے ہیں، پتلی جھلی جو اِستر کی طرح چاروں طرف ہوتی ہے، زردی اور سفیدی جو خول کے اندر بچے کی غذا ہیں، بچے کا جرثومہ، تار جو جرثومے کو صحیح رُخ پر باقی رکھتے ہیں۔ ان میں سے کسی ایک چیز کو انڈے سے الگ کر دیجیے، اور انڈا کبھی بھی چوزے کی پرورش گاہ نہیں بن سکے گا۔ کیا یہ سات مختلف چیزیں محض اتفاق سے یکجا ہوگئی ہیں، اتفاق‘ ان سات مختلف چیزوں کی موجودگی کی تشریح نہیں کر سکتا، جو ٹھیک اور بالکل صحیح حالت میں پائی جا رہی ہیں۔ اس سے زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ اتفاق سے صرف یہی چیزیں کیوں اکٹھا ہوئیں۔ کیوں نہ درخت کی پتی، کوئی لکڑی، پتھر کا ایک ٹکڑا اور اس طرح کی ہزاروں چیزیں جن کا موجود ہونا ممکن تھا خول کے اندر آگئیں، جن میں سے کوئی ایک چیز بھی اگر وہاں ہوتی تو وہ سارے انڈے کو برباد کردیتی۔ سب سے زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ جب مرغی کا بچہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ انڈے سے باہر نکلے، اس وقت اس کی چونچ پر ایک چھوٹی سی سخت سینگ ظاہر ہوتی ہے۔ اس کی مدد سے وہ اپنے خول کو توڑ کر باہر آجاتا ہے۔ سینگ اپنا کام پورا کر کے بچے کی پیدائش کے چند دن بعد خود بخود جھڑ جاتی ہے۔

خود اپنے وجود پر غور کیجیے۔ انسان کو جو جسم حاصل ہے وہ کس قدر حیرت انگیز ہے۔ دماغ کو دیکھیے۔ ایک ایسا ٹیلی فون ایکسچینج جو ہر آن زمین کے تمام مردوں، عورتوں اور بچوں سے تعلق جوڑے ہوئے ہو، ان سے پیغامات وصول کرتا ہو اور ان کے نام پیغام بھیجتا ہو، اگر آپ ایک ایسے ٹیلی فون

‹ Previous page Next page › Contents of November 2019 All issues

Printed page