Nature and Science Speak about God
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۹، صفحہ ۲۰
اکسچینج (exchange) کا تصور کرسکیں تو آپ دماغ کے ناقابل یقین حد تک پیچیدہ نظام کا صرف ایک ہلکا سا اندازہ کر سکتے ہیں۔
آپ کے دماغ (brain) کے اندر تقریباً ایک ہزار ملین عصبی خانے (nerve cells) ہیں۔ ہر خانے سے بہت باریک تار نکل کر تمام جسم کے اندر پھیلے ہوئے ہیں جن کو عصبی ریشے (nerve fibres) کہتے ہیں۔ ان پتلے ریشوں پر خبر وصول کرنے اور حکم بھیجنے کا ایک نظام تقریباً ستر میل فی گھنٹے کی رفتار سے دوڑتا رہتا ہے۔
دل کو دیکھیے، اس کا اوسط قد چار انچ لمبا اور ڈھائی انچ چوڑا ہوتا ہے۔ اس کا وزن آٹھ اونس سے زیادہ نہیں ہوتا مگر انسانی جسم کا یہ چھوٹا سا پمپ رات دن مسلسل چلتا رہتا ہے۔ اس کی حرکت دن میں ایک لاکھ بار ہوتی ہے اور وہ ہر تیرہ سیکنڈ میں تقریباً ایک گیلن خون سارے جسم میں بھیج دیتا ہے۔ ایک سال میں دل جتنا خون پمپ کرتا ہے وہ اتنا ہوتا ہے جو ایک ایسی ٹرین کو پوری طرح بھر سکے، جو 65 بڑے بڑے تیل کے ویگن لیے ہوئے ہو۔ دل کی اس حیرت انگیز کارکردگی کو حاصل کرنے کے لیے عجیب و غریب ہنر مندی کے ساتھ اس کو موزوں ترین بنایا گیا ہے۔
کائنات میں اس طرح کی بے شمار چیزیں ہیں جن کی صرف فہرست بنانے کے لیے ایک پوری لائبریری کی ضرورت ہوگی، جب کہ انسان کا علم کائنات کے موجود حقائق کی نسبت سے کچھ بھی نہیں ہے۔ جو کچھ ہم نے دیکھا ہے، اس سے کہیں زیادہ ہے وہ چیز جس کو دیکھنا ابھی باقی ہے۔ یہ حیرت انگیز کاریگری، یہ مکمل منصوبہ بندی، یہ اعلیٰ ترین ذہانت کیا محض اتفاق (chance) سے وقوع میں آگئی ہے۔ بے شک بعض اوقات اتفاق سے بھی کوئی واقعہ ظاہر ہو جاتا ہے۔ مثلاً ہوا کا ایک جھونکا کبھی سرخ گلاب کے زیرہ (pollen) کو اڑا کر سفید گلاب پر ڈال دیتا ہے، جس کے نتیجے میں زرد رنگ کا پھول کھلتا ہے۔ مگر اس قسم کا اتفاق محض جزوی اور خفیف تبدیلیاں پیدا کر سکتا ہے۔ وہ صرف اس مخصوص رنگ کے گلاب کی تو جیہہ کرتا ہے، نہ کہ وہ گلاب کے پورے وجود کا سبب ہے۔ اتفاق ہرگز اس کی توجیہہ نہیں کر سکتا کہ ایک مخصوص قسم کا نظام اس قدر تسلسل کے ساتھ کیوں
‹ Previous page Next page › Contents of November 2019 All issues