Al-Risala · November 2019 · page 22

”درست، مگر یہ ذرات سرخ کیوں ہوتے ہیں؟ “

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۹، صفحہ ۲۲

”درست، مگر یہ ذرات سرخ کیوں ہوتے ہیں؟ “

”ہمم... خون میں ایک خاص مادہ ہوتا ہے جس کا نام ہیموگلوبن (ر ان ذرات میں ایک خاص مادہ ہوتا ہے (Hemoglobin)

مادہ جب پھیپھڑے میں آکسیجن جذب کرتا ہے تو سرخ ہو جاتا ہے۔ “ ’’ٹھیک ہے، مگر ہیموگلوبن کے حامل سرخ ذرات آخر کہاں سے آئے۔ “ ’’وہ آپ کی تلی (spleen) میں بن کر تیار ہوتے ہیں۔ ‘‘ ڈاکٹر صاحب! جو کچھ آپ نے فرمایا، وہ بہت عجیب ہے، مگر مجھے بتائیے کہ ایسا کیوں ہے کہ خون، سرخ ذرات، تلی اور دوسری ہزاروں چیزیں اس طرح ایک کل کے اندر باہم مربوط ہیں، وہ اس قدر صحت کے ساتھ یک جا ہو کر کیسے عمل کرتی ہیں کہ میں سانس لیتا ہوں، میں دوڑتا ہوں، میں بولتا ہوں ، میں زندہ ہوں۔ ‘‘ ’’یہ قدرت کا قانون ہے۔ ‘‘ ’’وہ کیا چیز ہے جس کو آپ قانونِ قدرت کہتے ہیں۔ ‘‘ ’’اس سے میری مراد طبعی اور کیمیاوی طاقتوں کا اندھا عمل ہے۔ ‘‘ مگر کیا وجہ ہے کہ یہ اندھی طاقتیں ہمیشہ ایسی سمت میں عمل کرتی ہیں، جو انہیں ایک متعین انجام کی طرف لے جائے ۔ کیسے وہ اپنی سرگرمیوں کو اس طرح منظم کرتی ہیں کہ ایک چڑیا اُڑنے کے قابل ہو سکے، ایک مچھلی تیر سکے اور ایک انسان اپنی مخصوص صلاحیتوں کے ساتھ وجود میں آئے۔ “ ”میرے دوست ، مجھ سے یہ نہ پوچھو، سائنس داں صرف یہ بتا سکتا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ کیا ہے۔ اس کے پاس اس سوال کا جواب نہیں ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ کیوں ہو رہا ہے۔ “ یہ سوال و جواب موجودہ سائنس کی حقیقت واضح کر رہا ہے۔ بے شک سائنس نے ہم کو بہت سی نئی باتیں بتائی ہیں۔ مگر اس نے جو کچھ بتایا ہے وہ صرف کچھ ہونے والے واقعات ہیں۔ وہ واقعات کیوں کر رہے ہیں اس کا جواب سائنس کے پاس نہیں ہے۔ ایک مکھی کے نازک اعضاء کس طرح کام کرتے ہیں۔ بے شک سائنس نے اس سلسلے میں ہم کو بہت کچھ بتایا ہے، مگر وہ کون ؁ ۲۲؁، اس بات کا عا د ی س ا تھ |

‹ Previous page Next page › Contents of November 2019 All issues

Printed page