Nature and Science Speak about God
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۹، صفحہ ۲۱
جاری ہے۔ وہ ہم کو نہیں بتا تا کہ ہماری دنیا میں باقاعدگی اور تنظیم کیوں پائی جاتی ہے۔ اتفاق کا عمل کبھی بھی یکساں طور پر نہیں ہو سکتا۔ اتفاق کے لیے ممکن نہیں ہے کہ جو کچھ آج ہوا اسی کو کل بھی وجود میں لائے۔ پھر کیوں تمام چیزیں ہمیشہ یکسانیت کے ساتھ ایک ہی شکل میں ظاہر ہو رہی ہیں۔ ان میں نظم اور باقاعدگی کیوں پائی جاتی ہے۔
کچھ دھات کے ٹکڑے ہوا میں اچھالے جائیں تو کیا یہ ممکن ہے کہ وہ ڈھلے ہوئے حروف کی شکل میں زمین پر گریں اور گرتے ہی ایک بامعنی عبارت کی شکل میں کاغذ کے صفحہ پر اکٹھا ہو جائیں۔ اگر ایسا محض اتفاق سے نہیں ہو سکتا تو یہ کیوں فرض کر لیا گیا ہے کہ اتنی بڑی دنیا اتنی حیرت انگیز خصوصیات کے ساتھ محض اتفاق سے وجود میں آ گئی ہے۔ ایک نظریہ جس کو کسی تجربہ گاہ میں ثابت نہیں کیا جا سکتا اس کو علمی طور پر منوانے کی کیا دلیل ہے۔
دوسری توجیہہ جس پر مادہ پرست علماء انحصار کرتے ہیں وہ قانون قدرت (nature) ہے۔ "مرغی کے انڈوں سے بچے کیوں 21 روز میں نکلتے ہیں، اور شتر مرغ کے انڈوں سے 45 روز میں۔ " اس طرح کے بے شمار سوالات ہیں جن کا جواب مادی علماء کے نزدیک یہ ہے کہ یہ ایک قانون فطرت ہے۔ بظاہر یہ ایک توجیہہ ہے مگر در حقیقت یہ جواب صرف ایک واقعہ کو بیان کرتا ہے۔ قانون فطرت کا لفظ بول کر ہم صرف کائنات کے نظم اور اس کی کارکردگی کا اعتراف کرتے ہیں۔ یہ لفظ اس کی تو جیہہ نہیں کرتا کہ یہ نظم اور کارکردگی کیوں قائم ہے۔ یہ لفظ صرف یہ بتا تا ہے کہ چیزیں ہمیشہ ایک متعین اصول کے تحت وجود میں آتی ہیں اور ہمیشہ اسی طرح وجود میں آئیں گی۔ اس سے یہ نہیں معلوم ہوتا کہ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ کیوں ہو رہا ہے۔ وہ واقعہ کا سبب نہیں بتا تا بلکہ صرف واقعہ کی تصویر پیش کرتا ہے۔
اگر آپ کسی ڈاکٹر سے پوچھیں کہ خون سرخ کیوں ہوتا ہے تو وہ جواب دے گا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ خون میں نہایت چھوٹے چھوٹے سرخ اجزاء ہوتے ہیں (ایک انچ کے ساتھ ہزار ویں حصے کے برابر) جن کو سرخ ذرات کہا جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2019 All issues