”درست، مگر یہ ذرات سرخ کیوں ہوتے ہیں؟ “
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۹، صفحہ ۲۴
کائنات میں ایک تخلیقی ذہن کو ماننا محض ایک بے بنیاد روایت کو ماننا نہیں ہے۔ دراصل بہت سے ناگزیر نتائج ہم کو اس عقیدہ تک پہنچاتے ہیں، بے شمار علمی حقیقتیں ہم کو مجبور کرتی ہیں کہ ہم کائنات کے پیچھے ایک ذہن کی کار فرمائی تسلیم کریں۔ ٹھیک اسی طرح جیسے ریڈیو کی آواز ہم کو یہ ماننے پر مجبور کرتی ہے کہ ہم کچھ لہروں کی موجودگی تسلیم کریں، حالانکہ ہم ان لہروں کو بالکل نہیں دیکھتے۔ گلاس میں شکر ڈالیں تو تھوڑی دیر میں وہ اس طرح گھُل مل جائے گی کہ آنکھوں کو دکھائی نہیں دے گی۔ مگر زبان سے چکھ کر آپ پانی میں شکر کی موجودگی کو معلوم کر سکتے ہیں۔ اسی طرح خدا آنکھوں کو نظر نہیں آتا مگر جب ہم اپنے گرد و پیش کی دنیا کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمارا وجدان (intuition) پکار اٹھتا ہے کہ بے شک یہاں ایک خدا ہے، اس کے بغیر موجودہ کائنات وجود میں نہیں آسکتی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ علم کے اضافہ نے انسان کو خدا سے دور نہیں کیا بلکہ اور اس کے قریب کیا ہے۔ خدا کے وجود پر شک کرنا محض اپنی جہالت کا اعلان کرنا ہے۔ پاسچر کا قول کس قدر صحیح ہے جس کو مصنف نے کتاب کے صفحہ اول پر درج کیا ہے:
A smattering of science turns people away from God-Much of it brings them back to Him. معمولی علم آدمی کو خدا سے دور کرتا ہے، زیادہ علم اس کو خدا سے قریب کرنے والا ہے۔ ☆☆☆☆☆ موجودہ زمانہ کے ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ انسان کے دماغ (brain) میں جو پارٹیکل ہیں وہ پوری کائنات کے مجموعی پارٹیکل سے بھی زیادہ ہیں۔ انسانی دماغ کی استعداد بے پناہ ہے مگر کوئی بڑے سے بڑا انسان بھی اب تک اپنے دماغ کو دس فی صد سے زیادہ استعمال نہ کر سکا۔
حقیقت یہ ہے کہ آدمی ایک امکان ہے۔ مگر موجودہ دنیا اپنی محدودیتوں کے ساتھ اس امکان کے ظہور کے لیے نا کافی ہے۔ انسانی امکان کے ظہور میں آنے کے لیے ایک لامحدود اور وسیع تر دنیا درکار ہے۔ جنت کی دنیا، ایک اعتبار سے، اسی لیے بنائی گئی ہے کہ وہاں آدمی کے امکانات پوری طرح ظہور میں آسکیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2019 All issues