ذہین کائنات
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۹، صفحہ ۲۵
ذہین کائنات
نظامِ شمسی سورج اور ان تمام غیر روشن اجرامِ فلکی کے مجموعے کو کہتے ہیں، جو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر سورج کی ثقلی گرفت (gravitational pull) میں ہیں، اور سورج کے اردگرد اپنے مخصوص مدار میں گھوم رہے ہیں۔ معلوم نظامِ شمسی ابھی تک صرف ایک ہے، جس میں ہماری زمین واقع ہے۔ تاہم علمائے فلکیات کا قیاس ہے کہ اس قسم کے مزید ایک ملین نظامِ شمسی کائنات میں ہو سکتے ہیں۔ کہکشاں اس مجموعہ کو کہتے ہیں جس میں روشن ستارے ایک خاص نظام کے اندر گردش کر رہے ہیں۔ ہماری قریبی کہکشاں (Milky Way) جو رات کے وقت لمبی سفید دھاری کی شکل میں دکھائی دیتی ہے، اس کے اندر تقریباً ایک کھرب ستارے ہیں۔ ہمارا نظامِ شمسی (solar system) اسی میں واقع ہے۔
سورج ہماری کہکشاں کی پلیٹ پر اپنے تمام سیاروں کو لیے ہوئے 175 میل فی سیکنڈ کی رفتار سے گردش کر رہا ہے۔ یہ کہکشاں اتنی وسیع ہے کہ سورج کے اس تیز رفتار سفر کے باوجود کہکشاں کے مرکز کے گرد ایک چکر کو پورا کرنے میں ہمارے نظامِ شمسی کو 20 کروڑ سال لگ جاتے ہیں۔ اس قسم کی ایک ملین سے زیادہ کہکشائیں وسیع کائنات میں پائی جاتی ہیں، اور ہر کہکشاں کے اندر کئی ملین انتہائی بڑے بڑے ستارے موجود ہیں۔
کہکشاں کے اندر ستارے انتہائی بعید فاصلوں پر واقع ہیں۔ ہمارے سورج سے قریب ترین ستارے کی روشنی جو ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کر رہی ہو، زمین تک اس کے پہنچنے میں 4 سال سے بھی زیادہ وقت لگ جاتا ہے۔
اجرامِ سماوی کے اتنے بڑے نظام کو کیا چیز تھامے ہوئے ہے، فلکیات دانوں کے نزدیک وہ اجرامِ سماوی کی باہمی کشش ہے۔ کیسی عجیب بات ہے کہ ”اجرامِ سماوی کی باہمی کشش“ کے لفظ کی معنویت کو آدمی سمجھ لیتا ہے۔ مگر خدا“ کے لفظ کی معنویت اس کی سمجھ میں نہیں آتی۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2019 All issues