سائنس کی شہادت
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۹، صفحہ ۳۶
کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ اپنے معاملے کی ری پلاننگ کریں، اور اپنی کوشش کسی دوسرے میدان میں جاری رکھیں۔ چنانچہ انھوں نے میدان جنگ کے بجائے قوانینِ فطرت (laws of nature) کے دریافت کی طرف بتدریج اپنی کوششوں کا رخ موڑ (divert) دیا۔
اٹلی کے سائنسداں گلیلیو گلیلی (وفات 1642ء) کو فادر آف ماڈرن سائنس (father of modern science) کہا جاتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ یہی وہ پہلا سائنس داں تھا جس سے ماڈرن سائنس کا سفر باقاعدہ صورت میں شروع ہوا۔ یہ عمل تقریباً چار سو سال تک جاری رہا۔ یہاں تک کہ بیسویں صدی میں وہ اپنی تکمیل تک پہنچ گیا۔ بیسویں صدی میں انسان کو وہ تمام سائنٹفک ڈیٹا حاصل ہوگئے، جو خالق کو سائنسی سطح یاریشنل لیول پر دریافت کرنے کے لیے ضروری تھے۔ اللہ نے جس عالم کو تخلیق کیا، اس کے ہر جزء پر خالق کی شہادت ثبت (stamped) ہے۔ پھر اس نے اس علم سے فرشتوں کو واقف کرایا۔ اس کے بعد اس نے اس حقیقت کو چھپے طور پر (hidden form) اس کائنات میں رکھ دی، جس کو انسان خود سے دریافت کر سکتا تھا۔ یہی وہ چھپی حقیقت ہے جو دریافت کے بعد ماڈرن سائنس کے نام سے جانی جاتی ہے۔ ☆☆☆☆☆ شہد کے بارے میں انگریزی کا ایک مضمون پڑھا اس میں دوسری باتوں کے ساتھ یہ بھی لکھا ہوا تھا کہ تقریباً 550 شہد کی مکھیاں مسلسل مشغول رہ کر بیس لاکھ سے زیادہ پھولوں کا رس چوستی ہیں تب ایک پاؤنڈ شہد تیار ہوتا ہے۔ Some 550 busy bees have to dip their snouts into as many as 2.5 million flowers to make just one pound of honey. شہد کی مکھی کے اندر بے شمار نشانیاں (signs) ہیں۔ مذکورہ واقعہ ان میں سے صرف ایک ہے۔ آدمی اگر اس پر غور کرے تو وہ خالق کے کمالات کے احساس سے سرشار ہو جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2019 All issues