Al-Risala · November 2019 · page 37

سائنس کی شہادت

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۹، صفحہ ۳۷

خدا کا وجود

خدا کی معرفت اول دن سے میری تلاش کا مرکز رہا ہے۔ میرا دن اور میری راتیں اسی تلاش میں گزری ہیں یہاں تک کہ شاید میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں نے خدا کو پا لیا ہے۔ 1960 کے آس پاس کی بات ہے۔ میں اپنے بڑے بھائی کے گھر 9 بدرقہ روڈ اعظم گڑھ میں تھا۔ وہاں میری ملاقات شاہ نصیر احمد صاحب سے ہوئی۔ گفتگو کے دوران اچانک انھوں نے کہا: کیا انسان خدا کو دیکھ سکتا ہے۔ میری زبان سے نکلا۔ کیا آپ نے ابھی تک خدا کو نہیں دیکھا۔ اس طرح کے تجربات میری زندگی میں بہت زیادہ ہیں۔ تاہم خدا کو دیکھنا مجازی معنی میں ہے، نہ کہ حقیقی معنی میں۔ کیونکہ حقیقی معنی میں اللہ رب العالمین کو دیکھنا اس دنیا میں کسی انسان کے لیے ممکن نہیں۔ میں نے ایک مرتبہ کسی مضمون میں لکھا تھا— خدا کو ماننا عجیب ہے لیکن خدا کو نہ ماننا اس سے بھی زیادہ عجیب ہے۔ جب میں خدا کو مانتا ہوں تو میں زیادہ عجیب کے مقابلہ میں کم عجیب کو ترجیح دیتا ہوں:

To believe in God is strange, but not believing in God is stranger. When I say that I believe in God I prefer the less strange than the more strange. البرٹ آئن سٹائن کے ایک جرمن دوست نے اس سے پوچھا کیا آپ تھیسٹ (atheist) ہیں ۔ اس نے کہا کہ نہیں۔ تم مجھ کو زیادہ صحیح طور پر اگنا سٹک (agnostic) کہہ سکتے ہو ۔ اگنا سٹک کا مطلب متشلک ہے۔ یعنی کہنے والا یہ کہہ رہا ہے کہ میں نہ یہ کہہ سکتا ہوں کہ خدا نہیں ہے، اور نہ یہ کہہ سکتا کہ خدا ہے۔ اس جملہ کا نفسیاتی تجزیہ کیا جائے تو وہ یہ ہوگا کہ خدا کے انکار کے حق میں میرے پاس کوئی دلیل نہیں۔ البتہ سائنٹفک دلائل (scientific evidence) اس معاملہ میں اتنے زیادہ ہیں کہ میں یہ بھی کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں کہ خدا نہیں ہے۔

آئن سٹائن کا یہ جملہ فظی فظی کا جملہ نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے:

‹ Previous page Next page › Contents of November 2019 All issues

Printed page