(Winston S. Churchill, The Second World War,
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۹، صفحہ ۴۵
سے فلڈ (flood) کر دیا۔ اس کے بعد حکومت روس نے ی دعویٰ کیا کہ قدیم مذہبی نظام مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔
اشتراکی نظریے کے مطابق مذہب، سرمایہ داری نظام کا ضمیمہ (appendix) تھا۔ سرمایہ داری نظام کے خاتمہ کے بعد قدرتی طور پر اس کے ضمیمہ کو بھی ختم ہو جانا چاہیے۔ روسی حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس نے سرمایہ داری نظام کو روس سے ختم کر دیا ہے۔ مگر حیرت انگیز بات ہے کہ مذہب اب بھی وہاں زندہ ہے۔ حتیٰ کہ روس کی جدید نسل میں دوبارہ مذہب پروان چڑھ رہا ہے۔ ہ اس سلسلہ میں ایک دلچسپ واقعہ روسی ڈکٹیٹر مارشل اسٹالن (1964-1879) کا ہے۔ اسٹالن خدا کا منکر تھا۔ مگر اس کی زندگی میں ایسے واقعات ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ مشکل اوقات میں وہ بے اختیار خدا کو یاد کرنے لگتا تھا۔ ونسٹن چرچل (1965-1874) نے دوسری جنگ عظیم کے موقع پر اگست 1942 ء میں ماسکو کا سفر کیا تا کہ ہٹلر کے خلاف دوسرا محاذ (سکینڈ فرنٹ) قائم کرنے کے لیے روسی لیڈروں سے گفتگو کرے۔ چرچل نے اس سلسلہ میں اتحادیوں کا فوجی منصوبہ اسٹالن کے سامنے رکھا، جس کا خفیہ نام ٹارچ (Torch) رکھا گیا تھا۔ اسٹالن چونکہ خود بھی ہٹلر کی بڑھتی ہوئی یلغار سے خائف تھا، اس نے اس فوجی منصوبہ میں گہری دلچسپی لی۔ چرچل کا بیان ہے کہ منصوبہ کی تشریح کے ایک خاص مرحلہ پر جب کہ اسٹالن کی دلچسپیاں اس سے بہت بڑھ چکی تھیں۔ اس کی زبان سے نکلا خدا اس منصوبہ کو کامیاب کرے:
“May God prosper this undertaking”
(Winston S. Churchill, The Second World War,
(Abridgement) Cassell & Company, London, 1965, p. 603)
• سویٹلانہ (Svetlana Alliluyeva) روسی ڈکٹیٹر اسٹالن کی بیٹی تھی۔ اس کی پیدائش 1926 کو ہوئی، اشتراکی دنیا سے مایوس ہو کر 1966 میں وہ ہندوستان آئی تھی۔ پھر وہ یورپ چلی گئی، اور 2011 میں اس کی وفات ہوئی۔
اس نے عیسائیت کو اختیار کر لیا تھا۔ اپنے سچائی کے تلاش کا واقعہ لکھتے ہوئے وہ اپنی کتاب
‹ Previous page Next page › Contents of November 2019 All issues