Al-Risala · December 2019 · page 10

دو واقعات

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۹، صفحہ ۱۰

دو واقعات

دنیا میں دو واقعات ایسے ہیں، جن کا وقت آخری حد تک غیر معلوم ہوتا ہے۔ انسان کی اپنی ذات کے اعتبار سے موت، اور خارجی دنیا کے اعتبار سے زلزلہ۔ یہ دونوں واقعات ایسے ہیں، جو پیشگی اطلاع کے بغیر آتے ہیں۔ علم انسانی کے پاس کوئی ایسا ذریعہ نہیں، جس سے ہم پیشگی طور پر موت یا زلزلے کی آمد کو جان سکیں۔

یہ نظام براہ راست طور پر خالق کا مقرر کردہ نظام ہے۔ یہ نظام اس لیے رکھا گیا ہے کہ انسان ہمیشہ الرٹ رہے۔ آدمی ہمیشہ ہوشمندانہ زندگی گزارے۔ آدمی اپنی زندگی کا ایک لمحہ بھی ضائع نہ کرے۔ انسان ہر لمحے کو اس طرح استعمال کرے کہ حاصل شدہ وقت کے علاوہ دوسرا وقت کبھی حاصل ہونے والا ہی نہیں۔

اس اعتبار سے موت اور زلزلہ دونوں انسان کے لیے یاد دہانی (reminder) ہیں۔ یہ فطری قانون انسان کو وہ واقعات بتاتے ہیں، جو اس کے لیے ذاتی طور پر قابل دریافت نہیں۔ موت اور زلزلہ۔ یہ دونوں انسان کو علامتی طور پر یہ بتاتے ہیں کہ انسان کے لیے کچھ چیزیں ایسی ہیں، جو قابل دریافت (discoverable) ہیں، اور کچھ چیزیں ایسی ہیں، جو انسان کے لیے قابل دریافت نہیں۔ یہ علم انسان کو مسلسل طور پر بیداری کی حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ انسان مجبور ہو جاتا ہے کہ وہ سوچنے والی زندگی گزارے۔ وہ غفلت کی حالت میں پڑا نہ رہے۔ غفلت کی حالت میں رہنے کا موقع انسان کے لیے نہیں۔ غفلت کا نقصان یہ ہے کہ آدمی اپنی زندگی کے مقصد کو نہ جانے۔ وہ اپنے مقصد کی تکمیل سے محروم رہے، اور بیداری کی حالت میں رہنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنی زندگی کے مقصد کو جانے، اور اپنی پوری کوشش کر کے اس کو مکمل کرے۔ اس دنیا میں انسان کے لیے ایک ہی چوائس ہے، اور وہ ہے حالت بیداری میں اپنے آپ کورکھنا، اور غفلت سے اپنے آپ کو مکمل طور پر بچانا۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2019 All issues

Printed page