رسول اللہ کی سنت
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۹، صفحہ ۱۱
رسول اللہ کی سنت
پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر ایک خطاب کیا تھا۔ اس خطاب میں مختلف باتوں کے علاوہ امت مسلمہ کو یہ رہنمائی بھی دی تھی : یَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي قَدْ تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا إِنِ اعْتَصَمْتُمْ بِهِ فَلَنْ تَضِلُّوا أَبَدًا كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ (مستدرک الحاکم، حدیث نمبر 318)۔ یعنی اے لوگو، میں نے تمھارے درمیان چھوڑا ہے، جس کو تم پکڑے رہوگے، تو تم ہرگز گمراہ نہ بنوگے، کبھی بھی یہ اللہ کی کتاب، اور اس کی نبی کی سنت ہے۔
یہ صرف ایک حدیث نہیں ہے، بلکہ یہ رسول اللہ کی ایک قابل اعادہ (repeatable) سنت کا بیان ہے۔ چنانچہ رسول اللہ کے بعد اس سنت پر عمل جاری ہو گیا۔ رسول اللہ کے بعد امت پوری طرح اس سنت کے مطابق سرگرم عمل ہو گئی۔ سیرت لکھی گئی، مسجد بنے، مدرسے بنے، وغیرہ۔ یہاں تک کہ امت محمدی ایک زندہ امت بن گئی۔
رسول اللہ نے ایک قائم شدہ امت چھوڑی ہے، اس کے لیے مقدر ہے کہ وہ تسلسل کے ساتھ قیامت تک جاری رہے۔ امت رسول اللہ کی مستند نمائندہ بن کر اس کے مشن کو لے کر قیامت تک چلتی رہے۔ رسول اللہ کے مشن کو لے کر چلنے کا مطلب کیا ہے۔ یہ ہے دعوت الی اللہ کے مشن کو قیامت تک جاری رکھنا۔ امت محمدی کی حیثیت داعی گروہ کی ہے، اور دوسری قوموں کی حیثیت مدعو اقوام کی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں کے درمیان تعلق داعی مدعو کا تعلق ہے، حریف اور رقیب کا تعلق نہیں۔
تعلق عملاً ایک دوسرے کے درمیان خیر خواہی کا تعلق ہے۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ داعی مدعو کے تعلق کو ہمیشہ زندہ رکھا جائے۔ اس کو کبھی حریف اور رقیب کا تعلق نہ بننے دیا جائے۔ امت کو ایک طرف زندہ حالت میں قائم رکھنا ہے، اور دوسری طرف برابر اس تعلق کو اپڈیٹ (update) کرتے رہنا ہے، یعنی بدلے ہوئے حالات کے مطابق، اس کی افادیت کو زندہ رکھنا۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2019 All issues