Al-Risala · December 2019 · page 21

اسلام دورِ جدید میں

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۹، صفحہ ۲۱

اب صرف اس کی ضرورت تھی کہ خدا کے کچھ بندے ان کو استعمال کر کے ان امکانات کو واقعہ بننے کا موقع دیں۔ مگر مسلم قیادت خدا کے اس منصوبہ میں شامل ہونے کے لیے تیار نہ ہوئی۔ اس نے نئے نئے عنوانات کے تحت وہی سیاسی جھگڑے دوبارہ چھیڑ دیا، جن کو خدا نے ہزار سالہ عمل کے نتیجہ میں ختم کیا تھا۔ انھوں نے اسلامی دعوت کو سیاسی اور قومی دعوت بنا کر دوبارہ اسلام کو اقتدار کا حریف بنا دیا اور کہا کہ یہی عین خدا کا پسندیدہ دین ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مدعو قوموں کے ساتھ ہر جگہ بالکل بے فائدہ قسم کی مقابلہ آرائی شروع ہوگئی، اور سارے نئے امکانات غیر استعمال شدہ حالت میں پڑے رہ گئے۔ مسلمانوں اور دیگر قوموں کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ قائم نہ ہوسکا۔ کام کی ایک سو سال سے بھی زیادہ لمبی مدت مسلمانوں نے کھودی۔ یہاں تک کہ شیطان نے بیدار ہو کر قدیم شرک کی جگہ جدید شرک ( کمیونزم ) کی صورت میں کھڑا کر دیا۔ اب کم از کم کمیونزم کے زیر تسلط علاقوں میں دوبارہ کام کرنے کی وہی مشکلات پیدا ہوگئی ہیں، جو اس سے پہلے شرک کے زیر تسلط علاقوں میں پائی جاتی تھیں۔ مثلاً چائنا، اور نارتھ کوریا، وغیرہ۔ تاہم غیر کمیونسٹ دنیا میں اب بھی کام کے مواقع کھلے ہوتے ہیں، اور یہاں پندرھویں صدی ہجری میں اس صالح جدوجہد کا آغاز کیا جا سکتا ہے، جو چودھویں صدی ہجری میں نہ کیا جا سکا۔

☆☆☆☆☆☆ تدبیری واپسی منصوبہ بند اقدام کا پہلا مرحلہ ہے۔

خدا حالات کی زبان میں بولتا ہے۔ عقل والے اس کو سن کر رہنمائی حاصل کرتے ہیں، اور جو بے بصیرت ہوں، وہ تاریکیوں میں بھٹکتے ہیں۔

حقیقت کو اگر آپ اختیاریانہ طور پر نہ مانیں، تو آخر کار آپ کو اسے مجبورانہ طور پر ماننا پڑے گا۔ حقیقی کام اور غیر حقیقی کام کا فرق یہ ہے کہ حقیقی کام ہمیشہ نتیجہ خیز ثابت ہوتا ہے، اور غیر حقیقی کام ہمیشہ بے نتیجہ ہو کر رہ جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2019 All issues

Printed page