دعوتِ عام کی ذمہ داری
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۹، صفحہ ۲۲
دعوتِ عام کی ذمہ داری
بیان کیا جاتا ہے کہ پچھلے انبیاء مقامی آبادیوں کے لیے آئے۔ وہ جس قوم میں پیدا ہوئے وہی قوم اُن کی دعوت کا میدان ہوتی تھی۔ مگر پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی اور پیغمبر آنے والا نہ تھا، اس لیے آپ ساری دنیا کے لیے داعی اور منذر بنا کر بھیجے گئے (الفرقان، 25:1)۔ اسی لیے پیغمبرِ اسلام کے لیے قرآن میں یہ الفاظ ہیں: وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ (21:107)۔ یعنی ہم نے تم کو تمام دنیا والوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔
یہ بات اہل اسلام کے لیے فخر یا فضیلت کی بات نہیں ہے۔ بلکہ وہ ایک سنگین ذمہ داری کی بات ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دوسرے پیغمبروں کی امتوں کی دعوتی ذمہ داری اگر مقامی دائرہ تک محدود رہتی تھی، تو امتِ محمدی کی ذمہ داری سارے عالم تک پھیلی ہوئی ہے۔ اُمّتِ محمدی کا اُمّت محمدی ہونا صرف اُس وقت متحقق ہوسکتا ہے، جب کہ وہ تمام دنیا کی قوموں کے اوپر اپنی دعوتی ذمہ داری کو ادا کرے۔ اس دعوتی عمل کے بغیر اُس کا اُمّت محمدی ہونا ہی مشتبہ ہے (الانعام، 7:19؛ یوسف، 12:108)۔ مزید یہ کہ اس دعوتی ذمہ داری کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اُمت کے لوگ تمام دنیا میں مسلم رخی تحریکیں چلائیں، بلکہ اُنہیں لازمی طور پر غیر مسلم رخی تحریکیں چلانا ہے۔ مسلم رخی تحریک یا ملت رخی تحریک اُمّت کا داخلی مسئلہ ہے، جب کہ غیر مسلم رخی تحریک، خارجی معنوں میں اُمّت کی لازمی ذمے داری ہے۔
علمائے اسلام کا اس امر پر اتفاق ہے کہ دعوت کے بغیر جہاد نہیں۔ ابن رشد نے الفصل الرابع فی شرط الحرب کے تحت لکھا ہے: فَأَمَّا شَرْطُ الْحَرْبِ فَهُوَ بُلُوغُ الدَّعْوَةِ بِاتِّفَاقٍ، أَعْنِي أَنَّهُ لَا يَجُوزُ حِرَابَتُہُمْ حَتَّى يَكُونُوا قَدْ بَلَغَتْهُمُ الدَّعْوَةُ، وَذَلِكَ شَيْءٌ مُجْمَعٌ عَلَيْهِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ؛ لِقَوْلِهِ تَعَالَى: وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولًا [الاسراء، 17:15] (بدایۃ المجتہد۱؍۳۸۶)۔ / ۳۸۶)۔ یعنی جنگ کی شرط متفقہ طور پر یہ ہے کہ ان لوگوں تک دعوت پہنچ چکی ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان
‹ Previous page Next page › Contents of December 2019 All issues