Al-Risala · December 2019 · page 26

آزمائش کس لیے

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۹، صفحہ ۲۶

آزمائش کس لیے

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اہل ایمان کو آزمائش پیش آئی۔ سخت آزمائش کے بعد وہ جنت کے انعام کے لیے منتخب کیے گئے۔ یہ حقیقت قرآن کی دو آیتوں کے مطالعے سے معلوم ہوتی ہے۔ ان میں سے ایک آیت کا ترجمہ یہ ہے: کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے، حالاں کہ ابھی تم پر وہ حالات گزرے ہی نہیں جو تمہارے اگلوں پر گزرے تھے۔ ان کو سختی اور تکلیف پہنچی اور وہ ہلا مارے گئے، یہاں تک کہ رسول اور ان کے ساتھ ایمان لانے والے پکار اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی ۔ یاد رکھو، اللہ کی مدد قریب ہے۔ (2:214)

اس سلسلے میں دوسری آیت کا ترجمہ یہ ہے: یہاں تک کہ جب پیغمبر مایوس ہو گئے، اور وہ خیال کرنے لگے کہ ان سے جھوٹ کہا گیا تھا، تو ان کو ہماری مدد آ پہنچی۔ پس نجات ملی جس کو ہم نے چاہا اور مجرم لوگوں سے ہمارا عذاب ٹالا نہیں جا سکتا۔ (12:110)

دعوت الی اللہ کا مشن جنت کی طرف سفر کا مشن ہے۔ یہ سفر مومن کی تربیت کے لیے ہوتا ہے۔ اللہ رب العالمین کو یہ مطلوب ہے کہ اللہ نے اس کے لیے جو نعمت سے بھری کائنات بنائی ہے، اس کو وہ دریافت کرے۔ وہ ایمان کے اعتبار سے سیلف ڈسکوری (self discovery) کی سطح پر کھڑا ہو۔ یہ سیلف ڈسکوری جنت کی قیمت ہے۔

جنت کا یہ سفر سخت امتحان کے مراحل سے گزرتا ہے۔ ان سخت مراحل سے گزرے بغیر انسان کے اندر وہ شخصیت تیار نہیں ہوتی، جس کو قرآن میں حسنِ رفاقت کی صفت بتایا گیا ہے۔ یہی وہ صفت ہے، جو کسی کو جنت کا مستحق بناتی ہے۔ یہ حقیقت قرآن میں ان الفاظ میں آئی ہے: وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا (4:69)۔ یعنی کیسی اچھی ہے ان کی رفاقت۔

اصل یہ ہے کہ انسان کی پیدائش کا مقصد صرف ایک ہے، اور وہ عبادت گزاری ہے (الذاریات، 51:56)۔ عبادت کی حقیقت کیا ہے، اس کو راقم الحروف نے اپنی کتاب الاسلام میں

‹ Previous page Next page › Contents of December 2019 All issues

Printed page