آزمائش کس لیے
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۹، صفحہ ۲۷
ان الفاظ میں لکھا ہے: عبادت کا اصل مطلب خدا کے آگے پستی اور عاجزی اختیار کرنا ہے۔ خدا کی عبادت کرنا، خدا کے آگے اپنے آپ کو انتہائی حد تک بچھا دینا ہے۔ پھر عبادت کا یہ عمل جس ہستی کے آگے ہوتا ہے، وہ چوں کہ کوئی ظالم و جابر ہستی نہیں، بلکہ انتہائی حد تک شفیق ہستی ہے، اور ہمارے اوپر اس کے بے پایاں احسانات ہیں، اس لیے اظہار عجز کے اندر لازمی طور پر محبت کی شان پیدا ہو جاتی ہے۔ بندے کا خدا سے تعلق اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک انتہائی محبوب ہستی سے عجز کا تعلق ہے۔ عین اس وقت جب بندہ شدتِ خوف سے کانپ رہا ہوتا ہے، جب خدا کے تصور سے اس کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑتے ہیں، اس وقت بھی اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ اس کے بہترین جذبات محبت اپنے رب کے لیے وقف ہوتے ہیں، وہ انتہائی اشتیاق کے ساتھ خدا کی طرف لپک رہا ہوتا ہے۔ وہ ایک درد انگیز محبت کی اعلیٰ ترین کیفیت میں اپنے آپ کو لپٹا ہوا پاتا ہے۔ خدا کے سامنے عاجزی اختیار کرنا، بلا شبہ اس سے انتہائی خوف کی بنا پر ہوتا ہے، مگر یہ خوف کوئی ایسی چیز نہیں، جو کسی ڈراؤنی شئے کو دیکھ کر آدمی کے اندر پیدا ہوتا ہے۔ یہ انتہائی امید اور انتہائی اندیشہ کی ایسی ملی جلی کیفیت ہے، جس میں بندہ کبھی یہ طے نہیں کر پاتا کہ دونوں میں سے کس کو فوقیت دے۔ یہ محبت اور خوف کا ایک ایسا مقام ہے، جس میں آدمی جس سے ڈرتا ہے، اسی کی طرف بھاگتا ہے، جس سے چھٹنے کا خطرہ محسوس کرتا ہے، اسی سے پانے کی امید رکھتا ہے۔ یہ ایک ایسا اضطراب ہے، جو سراپا اطمینان ہے، اور ایسا اطمینان ہے، جو سراپا اضطراب ہے۔ (الاسلام، صفحہ 7)
حقیقت یہ ہے کہ ایمان ایک انوکھی آزمائش کا معاملہ ہے۔ اس معاملے میں انسان کو ایک ایسے امتحان سے گزرنا ہوتا ہے، جو بیک وقت امید اور خوف کے دو طرفہ جذبات کے درمیان سے گزرتا ہے۔ آدمی کو ہر لمحہ یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کا سفر امید کا سفر ہے، اسی کے ساتھ ہر لمحہ اس کو یہ ڈر ہوتا ہے کہ اس کو کچھ نہیں معلوم کہ بالآخر کیا ہونے والا ہے۔ یہ امید اور خوف کی دو طرفہ کیفیت کے درمیان گزرنے والا سفر ہے۔ اس سفر میں ہر وقت انسان امید میں بھی ہوتا ہے، اور اسی کے ساتھ خوف میں بھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2019 All issues