Al-Risala · December 2019 · page 28

عقیدہ اور بین اقوامی معاملات

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۹، صفحہ ۲۸

عقیدہ اور بین اقوامی معاملات

ہجرت نبوی کے چھٹے سال حدیبیہ کا واقعہ پیش آیا۔ اسلام میں حدیبیہ کا واقعہ ایک تاریخ ساز واقعہ ہے۔ حدیبیہ کا واقعہ پورے معنوں میں ایک سنت رسول ہے۔ حدیبیہ کے موقعہ پر جو واقعات پیش آئے۔ ان میں سے ایک واقعہ وہ ہے جو بین اقوامی معاملات کے لیے ایک بنیادی اصول کی حیثیت رکھتا ہے۔

حدیبیہ کے موقعہ پر رسول اللہ اور قدیم مکہ کے مشرک لیڈروں کے درمیان صلح کی گفت و شنید (negotiation) شروع ہوئی۔ یہ گفت و شنید تقریباً دو ہفتہ تک جاری رہی۔ جب اس کی شرطیں طے ہو گئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کاغذ پر صلح نامے کے دستاویز لکھوانا شروع کیا۔ آپ نے علی بن ابی طالب سے کہا: اُکْتُبْ یَا عَلِيُّ: عَلِیُّ:ہَذَا مَا صَالََحَ عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ (اے علی لکھو، یہ وہ شرائط ہیں جس پر محمد رسول اللہ نے صلح کی)۔ سہیل بن عمر و جو اس وقت مشرک قیادت کی نمائندگی کر رہے تھے، انھوں نے کہا کہ ہم آپ کو اللہ کا رسول نہیں مانتے، آپ وہ لکھیے جس کو ہم مانتے ہیں (اكْتُبْ فِي قَضِيَّتِنَا مَا تَعْرَفُ)۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اعتراض کو مان لیا، اور کہا خدا کی قسم میں جانتا ہوں کہ میں اللہ کا رسول ہوں، لیکن اے علی تم رَسُولُ اللہ کا لفظ مٹاؤ اور اس کی جگہ لکھو محمد بن عبد اللہ۔ علی ابن ابی طالب نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد روایت کے الفاظ یہ ہیں: فَقَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرِنِي مَكَانَهُ، حَتَّى أَمْحُوَهُ، فَمَحَاہُ، وَکَتَبَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الله (تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا، مجھے اس لفظ کی جگہ دکھاؤ، تا کہ میں خود اس کو مٹادوں، پھر رسول اللہ نے خود اپنے ہاتھ سے اس لفظ کو مٹا دیا، اس کے بعد علی نے اس جگہ پر محمد بن عبداللہ لکھا)۔ تفصیل کے لیے دیکھیے صحیح البخاری (حدیث نمبر 3184)، صحیح مسلم (حدیث نمبر 1784-1783)، مسند احمد (حدیث نمبر 16800)، صحیح ابن حبان (حدیث نمبر 4869)، وغیرہ۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2019 All issues

Printed page