Al-Risala · December 2019 · page 30

عقیدہ اور بین اقوامی معاملات

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۹، صفحہ ۳۰

اس کا مطلب یہ ہے کہ بین اقوامی معاملات میں بین اقوامی رواج پر عمل کیا جائے گا۔ ہر زمانہ میں بین اقوامی تعلقات کے لیے کچھ رواج ہوتے ہیں۔ موجودہ زمانے میں بھی اس قسم کے بہت سے رواج ہیں۔ اب اقوام متحدہ نے ان کو زیادہ منظم صورت دے دی ہے۔ اس قسم کے تمام رواج مسلم ملکوں میں بھی اسی طرح قابل احترام ہوں گے، جس طرح غیر مسلم ملکوں میں ان کو قابل احترام سمجھا جاتا ہے۔ البتہ اگر اس قسم کے معاملات میں کوئی ایسی چیز یا رواج پایا جائے، جو صریحاً حرام ہو۔ مثلاً بین اقوامی میٹنگوں میں شراب پیش کرنا، تو اس مخصوص جز کی حد تک اس کی پیروی نہیں کی جائے گی۔ بیسویں صدی کے وسط میں اقوام متحدہ (United Nations) کی تشکیل ہوئی۔ تمام قوموں نے اس تنظیم کی ممبر شپ قبول کی۔ اس تنظیم کے تحت 10 دسمبر 1948 کو ایک منشور تمام قوموں کے اتفاق رائے سے منظور کیا گیا۔ جس کا ٹائٹل یہ تھا— دی یونیورسل ڈکلریشن آف ہیومن رائٹس :

The Universal Declaration of Human Rights(UDHR)

اب یہی منشور تمام قوموں کے اوپر نافذ ہوگا۔ اس معاملے میں کسی ملک کے لیے اپنی الگ پالیسی بنانے کا جواز نہیں۔ یہ منشور مسلم ملکوں کے لیے بھی اسی طرح قابل عمل ہے، جس طرح وہ غیر مسلم ملکوں کے لیے قابل عمل ہے۔

انھیں معاملات میں سے ایک معاملہ وہ ہے، جس کو اقلیاتی حقوق (minority rights) کہا جاتا ہے۔ مسلم ملکوں میں غیر مسلم لوگ ایک مذہبی اقلیت کے طور پر آباد ہیں۔ اسی طرح غیر مسلم ملکوں میں مسلمان ایک مذہبی اقلیت کے طور پر رہتے ہیں ۔ ان دونوں معاملات میں یکساں طور پر بین اقوامی اصول کی بنیاد پر معاملہ کیا جائے گا۔

مروجہ مسلم فقہ میں اس معاملے میں ذمی کا تصور پایا جاتا ہے۔ ذمی کا مطلب ہے پروٹیکٹڈ کمیونٹی (protected community)، یعنی مسلم ملکوں میں رہنے والی غیر مسلم اقلیت۔ موجودہ فقہ کے مطابق، اس ذمہ (protection) کے عوض ذمی لوگوں کو ایک مخصوص ٹیکس (جزیہ) ادا کرنا ہوتا

‹ Previous page Next page › Contents of December 2019 All issues

Printed page