Al-Risala · December 2019 · page 31

عقیدہ اور بین اقوامی معاملات

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۹، صفحہ ۳۱

ہے۔ ذمی کے تصور کو اسلامی عقیدہ کی طرح ایک ابدی تصور سمجھا جاتا ہے، مگر یہ درست نہیں۔ موجودہ زمانے میں شہریت (citizenship) کا جو تصور ہے۔ اس کے مطابق، جدید ذہن کے لیے ذمی کا تصور بالکل ناقابلِ قبول ہے۔ خود مسلمان خواہ ذمی کے تصور کو کتنا ہی زیادہ اعلیٰ تصور بتائیں، وہ جدید ذہن کے لیے ایک توہین آمیز اصطلاح ہے۔ ان کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلم ملک میں رہنے والے غیر مسلم کا جو مقام ہے وہ ثانوی درجے کے شہری ( second class citizen) کا مقام ہے۔ جدید ذہن کے نزدیک اگر چہ پیغمبر اسلام نے حجۃ الوداع کے موقعہ پر مساوات انسانی کا اعلان کیا۔ لیکن جہاں تک مسلم ریاست کا تعلق ہے، اس کے اندر غیر مسلموں کو مساوی درجہ حاصل نہیں۔ ان کے لیے صرف یہ چوائس ہے کہ وہ یا تو مسلم ریاست میں ثانوی درجے کی شہری بن کر رہیں یا ریاست کو چھوڑ کر باہر چلے جائیں۔

مگر حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں اسلام کا اصول وہی ہوگا، جو عالمی قانون کے مطابق، تمام قوموں کا اصول ہے۔ اس کی اصل خود دورِ اول میں موجود ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ پہنچے، تو آپ نے وہاں کے لوگوں سے ایک معاہدہ کیا۔ اس کو اسلام کی تاریخ میں صحیفہ المدینہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس میں یہود کے تعلق سے یہ الفاظ ہیں: وَإِنَّ يَهُودَ ... أُمَّةٌ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ، لِلْيَهُودِ دِينُهُمْ، وَلِلْمُسْلِمِينَ دِينُهُمْ (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 503)۔ یعنی بیشک یہود...، مومنین کے ساتھ، ایک امت ہیں۔ یہود کے لیے ان کا دین ہے، اور مسلمانوں کے لیے ان کا دین۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نئے شہری نظام کے تحت دونوں کا درجہ یکساں ہوگا۔ گویا کہ یہ عین وہی چیز ہے جس کو موجودہ زمانے میں یکساں شہریت (equal citizenship) کہا جاتا ہے۔

مسلم فقہ کا ایک مسلم اصول یہ ہے: الأحكام تتغيّر بتغيّر الزّمان والمكان (تيسير علم الفقہ للعنزی)۔ یعنی زمان و مکان کے بدلنے سے احکام بدل جاتے ہیں۔ اس اصول کے انطباق کی مثالیں ماضی میں بھی ہیں اور حال میں بھی۔ ماضی میں اس کی مثال بنی قریظہ کے لیے سفر کا واقعہ ہے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 946)۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2019 All issues

Printed page