ادبی انقلاب
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۹، صفحہ ۳۷
اگر اندازہ درست ثابت نہ ہو تو ماڈل کی یا تو تصحیح کی جاتی ہے یا اسے ختم کر دیا جاتا ہے۔ ادبی کنایہ (literary analogy) جو عام طور پر تشبیہ کی شکل میں ہوتا ہے، اس کا مقصد بالکل مختلف ہوتا ہے۔ یہ اس لیے وضع کیا جاتا ہے کہ قاری کو ایک بیان کی صداقت کے بارے میں ایک دلچسپ مثال کے ذریعے متاثر کیا جائے۔ سائنسی ماڈل کے مقابلہ میں یہ بالکل وقتی نوعیت کی چیز ہے۔ سائنسی ماڈل سائنس داں کے اندازوں کو ظاہر کرنے کے لیے اس وقت تک استعمال کیا جاتا ہے، جب تک وہ غلط ثابت نہ ہو جائے۔ مزید یہ کہ ادبی تمثیل اپنی ذات میں کوئی ایک چیز نہیں ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ وہ حقیقی نہیں سمجھی جاتی۔
تاہم عظیم ذہنی انقلاب سے پہلے یہ دو قسم کی تمثیلات ایک دوسرے سے بالکل الگ الگ نہیں تھیں ۔ یہ سمجھا جاتا تھا کہ اخلاقی نظام ہر اعتبار سے نہایت گہرائی کے ساتھ طبیعی دنیا سے مربوط ہے۔ جب شکسپیئراپنے ایک ڈرامہ کے کردار کی زبان سے فوجی نظم و ضبط پر استدلال کرتے ہوئے اس سے کہتا ہے کہ سورج سیاروں کے درمیان کمانڈر کی سی پوزیشن رکھتا ہے تو وہ محض ایک تشبیہ نہیں دیتا بلکہ اپنے یقین کے مطابق وہ کائنات کی فطرت کے بارہ میں ایک صحیح سائنسی بیان دیتا ہے۔ یہ خدائی نظام کا ایک جز تھا کہ سورج سیاروں کے اوپر حکمراں ہو، اور اسی طرح Agamemnon یونانیوں کے اوپر حکومت کرے، اور ان دونوں میں سے کسی کی حکمرانی میں بھی فرق آنا وسیع تر کائنات میں خلل پیدا کرنے کا سبب بن سکتا تھا:
The rise of science led to a separation of reason from emotion: and naturally enough, an age of prose followed an age of poetry. (p. 108)
سائنس کے عروج نے عقل اور جذبات کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا، اور فطری طور پر شاعری کے دور کی جگہ نثر کے دور نے لے لی۔
سترھویں صدی کے وسط سے پہلے نثر بھی رنگین اور شاعرانہ طرز کی ہوتی تھی۔ سویفٹ (1667_ اور ایڈیسن (1719_ 1672) کے وقت سے یہ محض سخن سازی سمجھی جانے لگی۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2019 All issues