Al-Risala · December 2019 · page 38

ادبی انقلاب

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۹، صفحہ ۳۸

ما قبل سائنس کے استعاراتی انداز کی ایک مثال لائیلی (1606_1554) کی کتاب (Euphues) میں ملتی ہے۔ یہ کتاب پہلی بار 1579 میں شائع ہوئی۔ اس وقت وہ ایک پسندیدہ کتاب تھی، اپنے اسٹائل کے اعتبار سے بھی اور اخلاقی مضامین کے اعتبار سے بھی۔ 1636 تک وہ بار بار چھپتی رہی۔ اس کے بعد عام قارئین میں اس نے اپنی جاذبیت کھودی اور محض ایک ادبی عجوبہ (literary (curiosity بن کر رہ گئی۔

1650 تک ایک شخص انگلش لٹریچر میں عالم خیال اور عالم فطرت کے درمیان کاملیت (wholeness) پاتا ہے۔ اس صدی کے وسط سے دونوں کے درمیان خلیج پیدا ہونا شروع ہوئی، اور آرٹ اور سائنس کی تقسیم کی شکل میں دونوں الگ الگ ہو گئے۔ اس کے بعد انگریزی میں ایک سادہ اور استعارہ اور کنایہ سے خالی انداز پیدا ہونے لگا، جس کی سب سے بڑی وجہ یورپ میں سائنس کی طرف بڑھتا ہوا رجحان تھا۔

سادگی اظہار(simplicity of expression) پیدا ہونے کی اور بھی وجہیں تھیں۔ مثلاً سترہویں صدی میں جب تعلیم بڑھی، تو یونان اور لاطینی کلاسیکل کتابوں کے مقابلہ میں لوگ زیادہ تر فلکیات، بحریات، جہاز سازی اور گھڑی سازی کے مطالعے میں دلچسپی لینے لگے۔ اس طرح فطری طور پر سادہ زبان کا رجحان بڑھا۔ کیونکہ یہ مضامین شاعرانہ طرز کے ادب میں بیان نہیں کیے جا سکتے تھے۔ پچھلے سو برس میں اخبار کی زبان بھی اس سے متاثر ہوئی ہے۔ تعلیمی انفجار (literary (explosion کے بعد عوامی صحافت (popular journalism) پیدا ہوئی، اور اسٹائل میں سادگی آتی چلی گئی۔ سترھویں صدی کے بعد پیدا ہونے والے ادب کو ٹھیک ٹھیک حقائق (precise (facts بیان کرنے تھے۔ اس لیے سادہ اندازِ بیان کا پیدا ہونا بالکل فطری تھا۔ سپراٹ (Sprat) نے 1667 میں (History of Royal Society) لکھی، اور اس میں نثر کے اسٹائل کے اصول مقرر کیے۔ اس میں اس نے لکھا کہ ہم کو فطری طرز کلام (natural (way of speaking اختیار کرنا چاہیے جس میں ریاضیاتی ڈھنگ کی واقعیت ہو، اور لفظی رنگینیوں

‹ Previous page Next page › Contents of December 2019 All issues

Printed page